اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں قائدِ حزبِ اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس، چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر علی خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی صحت، سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد، پارلیمانی امور اور اپوزیشن کی آئندہ کی سیاسی و عوامی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کے اہم فیصلے

اجلاس میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ارکان نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت اور ان کے علاج معالجے کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے ان کی صحت پر ڈرامہ رچایا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر اجلاس میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور آئینی و قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرکے حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے اس کے لیے کل سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں 27 ستمبر کو پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے بھرپور احتجاج کا فیصلہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو اس میں شرکت کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں پنجاب سمیت ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم تیز کرنے اور سیاسی سرگرمیوں کو منظم و مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے آئین، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی اصولوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن جماعتیں باہمی مشاورت، اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ آئندہ تمام اہم سیاسی و پارلیمانی فیصلے کریں گی۔مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام کی بھرپور تائید کرتے ہوئے اسے مزید فعال، منظم اور مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔مولانا فضل الرحمن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ وسیع تر اپوزیشن اتحاد سے پارلیمان اور عوام میں اپوزیشن کی آواز مزید مضبوط اور توانا ہوگی۔اجلاس میں اپوزیشن اتحاد کی آئندہ کی سیاسی، پارلیمانی اور عوامی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور اس حوالے سے باہمی رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
