وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اور ملحقہ علاقوں کو ڈملوٹی سے یومیہ 10 ملین گیلن پانی کی فراہمی کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا، تقریب فلٹریشن پلانٹ سائٹ، کریک ایونیو، ڈی ایچ اے فیز VII میں منعقد ہوئی، تقریب میں رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر نجمی عالم، ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی، چیف آپریٹنگ آفیسر اسد اللہ خان، ایف ڈبلیو او اور کنٹونمنٹ بورڈ کے افسران، منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا ترقی کا وژن ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے کو یومیہ 10 ملین گیلن پانی کی فراہمی کے منصوبے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے امید ہے ایف ڈبلیو او منصوبہ مقررہ مدت سے قبل مکمل کرلے گی،انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے منصوبے کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب کیے ہیں جبکہ کراچی سمیت پورے سندھ میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جاچکے ہیں اور کئی منصوبوں پر کام جاری ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں اس وقت تقریباً 150 شاہراہوں پر ترقیاتی کام جاری ہیں جبکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں، صوبائی وزیر بلدیات نے بتایا کہ سندھ حکومت کراچی میں خیابان اتحاد اور خیابانِ شہباز کے مقامات پر دو نئے منصوبے شروع کررہی ہے جن سے شہریوں کو سفری سہولیات میں بہتری حاصل ہوگی، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کی ترقی اور شہری مسائل کے حل کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ مل کر منصوبوں پر کام کر رہی ہے جبکہ ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے کو پانی کی فراہمی کا منصوبہ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے تک یومیہ 10 ملین گیلن پانی کی فراہمی کے منصوبے پر 14 ارب روپے کی لاگت آئے گی جبکہ منصوبہ 12 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ منصوبے سے ڈیفنس اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں رہائشیوں کو فائدہ پہنچے گا، انہوں نے کہا کہ ماضی میں ڈی ایچ اے کو پانی کی فراہمی کے حوالے سے متعدد وعدے کیے گئے تاہم ان پر عملدرآمد نہیں ہوسکا، اب پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے کام شروع کردیا ہے،انہوں نے منصوبے میں تعاون پر کنٹونمنٹ بورڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سی بی سی نے اس معاملے میں بھرپور تعاون اور ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے، میئر کراچی کے مطابق ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے تک اضافی پانی کی ترسیل کے لیے خصوصی پائپ لائن بچھائی جائے گی جس میں ڈملوٹی سورس، پمپنگ، ایچ ڈی پی ای مین ٹرانسمیشن اور ڈی ایچ اے انٹرفیس شامل ہوں گے، ڈملوٹی سے پانی پمپنگ کے ذریعے ایچ ڈی پی ای مین تک پہنچایا جائے گا جبکہ ڈی ایچ اے انٹرفیس پر پانی کی فلٹریشن اور ٹریٹمنٹ کا انتظام بھی منصوبے کا حصہ ہے، انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور ایف ڈبلیو او اس منصوبے پر کام کریں گے جس کا مقصد ڈی ایچ اے کے لیے پانی کا اضافی ذریعہ اور جدید انجینئرڈ ٹرانسمیشن سسٹم فراہم کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او اور سندھ حکومت ڈی ایچ اے کے لیے مزید ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں جن کا براہ راست فائدہ علاقے کے مکینوں کو ہوگا، انہوں نے بتایا کہ خیابانِ شہباز پر فلائی اوور، خلیق الزمان روڈ پر نیا فلائی اوور اور شاہراہِ بھٹو کی طیبہ مسجد کی جانب توسیع کے منصوبے بھی زیرِ عمل ہیں، میئر کراچی نے سیوریج کے پانی کی ٹریٹمنٹ کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں سیوریج کا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے سمندر میں جاتا رہا تاہم اب کراچی میں یومیہ 35 ملین گیلن سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ جنوری 2027 تک 100 ملین گیلن پانی یومیہ ٹریٹ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے پانی فراہمی منصوبہ شہریوں کو درپیش پانی کے مسائل کے حل میں اہم پیشرفت ہے، منصوبے کی بروقت تکمیل سے ڈی ایچ اے اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی فراہمی مزید بہتر ہوگی۔






