اکاؤنٹنگ سسٹم کی منظوری دے کر بلدیاتی ملازمین،پنشنرز کے بچوں کو فاکوں سے نجات دلائی جائے،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اداروں کی مالی پوزیشن بہت ہی کمزور ہو گئی ہے۔ان کے پاس اپنے ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لئے فنڈز موجود نہیں ہیں۔صوبائی حکومت نے وقتاً فوقتاً بلدیاتی اداروں کے ذرائع آمدن سے متعلق ٹیکسز کو مختلف حیلے بہانوں سے ختم کردیا جن میں کرونا وباء کے دوران ختم کئے گئے 120 سے زائد ٹیکسز بھی شامل ہیں۔صوبائی حکومت اپنے وعدے گرانٹ کی فراہمی یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے جب کہ صوبائی حکومت نے ٹیکسز کی معافی کے وقت کہا تھا کہ وہ ان ٹیکسز کی معافی کے بدلے میں بلدیاتی اداروں کو خاطر خواہ گرانٹ کی فراہمی یقینی بنائے گی مگر ایسا نہ ہو سکا۔اسی طرح صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے دوران کئی محکموں کو ختم کرکے ان کے ملازمین اور پنشنرز کی زمہ داری بلدیاتی اداروں کے سپرد کردی جن کی تنخواہوں اور پنشن کے اضافی اخراجات بھی بلدیاتی اداروں پر ڈال دئے گئے جن میں سابق ضلع کونسلز اور رورل ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ شامل تھے جب کہ ریسکیو 1122 کے قیام سے فائر بریگیڈ کا عملہ غیر فعال کیا گیا جس سے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے اخراجات بھی بلدیاتی اداروں کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔واسا کے قیام سے عملہ صفائی و واٹر سپلائی کی تنخواہوں اور پنشن اور دیگر آپریشنل اخراجات بھی متعلقہ بلدیاتی ادارے ہی برداشت کرتے ہیں۔صوبائی حکومت کی طرف سے مالی معاونت نہ ہونے سے بلدیاتی ادارے دیوالیہ ہو گئے ہیں۔فی الوقت اکثریتی بلدیاتی ادارے گزشتہ کئی مہینوں سے اپنے ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی سے محروم چلے آ رہے ہیں۔جس کی وجہ سے ملازمین اور پنشنرز کے بچے فاکوں سے دوچار ہیں۔جن اداروں کے ملازمین اور پنشنرز تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی سے دوچار ہیں ان میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، پرووا، درابن، ٹل، ھنگو، لکی مروت، بنوں، سرائے نورنگ، کوہاٹ، کرک،کلاچی، نوشہرہ، بالاکوٹ، الائی، مانسہرہ، چترال، لاچی، اوگی، ہری پور اور کئی دوسرے بلدیاتی ادارے شامل ہیں۔لوکل گورنمنٹ گرینڈ الائنس خیبرپختونخوا کی ایکشن کمیٹی، لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا اور آل پاکستان لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کے عہدیداران نے صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا وزیر بلدیات خیبرپختونخوا، چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا، سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری قانون اور سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ خیبرپختونخوا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کو بلا تاخیر تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی یقینی بنانے کے لئے مستقل اکاؤنٹنگ سسٹم کی منظوری دے کر بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے بچوں کو فاکوں سے نجات دلائی جائے۔

جواب دیں

Back to top button