قیاس آرائیاں دم توڑ گئی، کراچی کے 7 ہائیڈرنٹس کا نیلام عام ہوگا،کمیٹی تشکیل دے دی گئی

کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ) سول جج شرقی مسمات کنول نے ہائیڈرنٹس کی نیلامی روکنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے سخی حسن ہائیڈرنٹ کے ٹھیکیدار قاسم اینڈ برادرز اور صفورا ہائیڈرنٹ کے ٹھیکیدار ایچ ٹو کی درخواستیں مسترد کردی ہیں اور کراچی کے سات ہائیڈرنٹس کی نیلام عام کرنے کی اجازت کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو دے دی ہے۔ عدالت میں دونوں ٹھیکیداروں نے استدعا کی تھی کہ ڈی سی کوٹہ اور دیگر واجبات کی ادائیگی تک ہائیڈرنٹس کی نیلامی روک دی جائے۔صفورا کے ایک ارب روپے اور سخی حسن کے 97کروڑروپےاور دیگر ہائیڈرنٹس کے چار ارب روپے سے ذائد واجباے ہے قبل از وقت تھیکیدار متعدد مرتبہ نیلام عام روک چکے ہیں یا تاخیر کا شکار کر چکے ہیں۔ ہائیڈرنٹس کی دو سالہ مدت 29 مئی کو ختم ہورہی ہے،۔دوسری جانب کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے کراچی کے 7 ہائیڈرنٹس کی نیلامی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

ڈائریکٹر پرسنل غضنفر علی خان کے دستخط سے جاری ہونے والا خط نمبرNO.KWSC/DP/DDHR/COMMITTEE/1189 بتاریخ 15 مئی 2025ء کو جاری کیا ہے۔ کمیٹی کے سربراہ پروجیکٹ مینجر S-III سراج اصغر شیخ نے کمیٹی میں چیف انجینئر محمد اکرم بلوچ،ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر پلاننگ خرم شہزاد، سپریٹنڈنٹ انجینئر عامر وقار،چیف انجینئر سیوریج سید سردار علی شاہ کے علاوہ کمشنر کراچی اور بلدیہ عظمی کراچی کا نامزد افسر کمیٹی کا رکن ہوگا۔ کمیٹی کو کسی افسر کو شامل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ کراچی کے سات ہائیڈرنٹس بشمول سخی حسن ضلع وسطی، فیوچر کالونی لانڈھی ضلع کورنگی،صفورا ضلع ملیر، نیپا گلشن اقبال ضلع شرقی، کرش پلانٹ ون ضلع غربی، کرش پلانٹ ٹو ضلع کیماڑی، شیرپاو ضلع جنوبی کے ہائیڈرنٹس کی دو سال کی مدت 29 مئی کو ختم ہورہی ہے۔ 11/12 دن میں نیلامی کے کاغذات کی تیاری، جانچ پڑتال ممکن نہیں۔ امکان ہے کہ نیلامی کی مدت ایک سے دو ماہ کی توسیع کی جائے گا۔ہائیڈرنٹس کی نیلامی دو سال یعنی 730 دن کے لئے ٹھیکے کے مختلف مراحل میں نیلام عام کے کاغذات کی تیار کرنے کے بعد اشتہارات کے ذریعے پیشکش طلب کرنا،پری بڈ کا اجلاس منعقد کرنا، ٹھیکے کی درخواستوں کی جانچ پڑتال،ٹھیکیداروں کے معاہدے کو تیار کرنا کے ساتھ ٹھیکیداروں کے کاغذات کی جانچ کرنا شامل ہے۔ خط میں کمیٹی کا TOR جاری کر دیا ہے۔ بڈ ڈاکیومنٹ اور تمام کام کمپیوٹرائز کرنا اور نگرانی کا نظام واضح کرنا شامل ہیں۔ نیلام عام کو صاف اور شفاف نظام واضح کرنا،ٹھیکے کے ٹیکنیکل اور فنانس الگ الگ کا نظام واضح کرنا، پہلے ٹیکنیکل رپورٹ جاری کرنا، اور انچارچ ہائیڈرنٹ سیل اور چیف انجینئر بلک اور ٹھیکے کے بارے میں حتمی فیصلہ مجاز اتھارٹی کرے گی،علاوہ ازیں کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی کے دستخط سے جاری ہونے والے لیٹر میں کراچی میں پانی کا شدید بحران کے دوران بڑے پیمانے پر ٹینکرز سروس میں شہریوں سے لوٹ مار اور زائد رقم طلب کرنے کی تحقیقات کا اغاز ہو گیا ہے۔ ہائیڈرنٹس ٹھیکے پر دینے والے معاہدے میں 55 فیصد GPS اور 45 فیصد کمرشل ٹینکرز فراہم کرنا تھا۔ حالیہ بحران کے دوران شہریوں سے لوٹ مار کی گئی تھی۔ کمیٹی کے سربراہ عامر وقار TSO/CEO ہے کمیٹی میں چیف انجینئر سیوریج سید سردار شاہ اور ہائیڈرنٹ سیل انچارج خالد فاروقی کو شامل کیا گیا ہے مبینہ طور پر ہائیڈرنٹس کے قانونی اور غیر قانونی کاروبار اور کراچی سسٹم کے نگران ہیں۔ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران 20 ارب روپے سے زائد رشوت، کمیشن،کک بیک ان کی نگرانی میں سیاسی، انتظامی،نیب کراچی، اینٹی کرپشن و دیگر تحقیقاتی اداروں میں تقسیم کرنے کی بعض حلقے تصدیق کررہے ہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر سید صلاح الدین نے ہائیڈرنٹس سیل کو دسمبر 2022 تک ہائیڈرنٹس کی نیلام عام کرنے تیاری کرنے کی ہدایت کر دی تھی۔ پہلے مرحلے میں ہائیڈرنٹ سے پانی کے نرخ، ٹینکروں کے نرخ،ٹرانسپورٹ کے نرخ کے تعین کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کی سمری اور دیگر تیاری و منظوری کا عمل جاری تھا۔ ہائیڈرنٹس کی نیلام عام سے قبل شرائط بھی سخت کرنے کی ہدایت کی تھی۔کراچی میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر چھ اضلاع میں ہائیڈرنٹس نیلام کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے،تاہم عدالت نے نیشنل لاجسٹک سیل(NLC) اور ایک ہائیڈرنٹ کو سرکاری طور پر اجازت دی تھی۔ این ایل سی کے ہائیڈرنٹ کے بارے میں واضح کردیا گیا ہے، یہ نیلام عام میں شامل نہیں ہوگا۔ ہائیڈرنٹس کے منافع بخش کاروبار کو سیاسی،سرکاری افسران و دیگر با اثر شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر کراچی کے سات اضلاع میں سات ہائیڈرنٹس لگانے کی منظوری دینے پر نیلامی کا اعلان کیا گیا ہے۔قبل از وقت پہلے مراحل میں تین ستمبر2017ء کو ٹھیکہ الاٹ کردیا گیا ہے۔ ٹھیکے کی معیاد دو سال تھی تاہم کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ملی بھگت سے ایک سال کا اضافہ ہوگیا ہے۔ نئے بورڈ کی تشکیل کے دوران ہائیڈرنٹس کی نیلامی کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے دو سال قبل،1000 سے 5000 گیلن فی ٹینکر میں 30 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے نرخ میں 10 سے 20 فیصد فی کلومیٹر کا اضافہ وصول کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا تھا۔ گذشتہ نیلامی سے قبل 5000 سے زائد چلنے والے ٹینکرز کے خلاف کاروائی نہ ہوسکی۔ضلع کی سطح پر ٹینکرز کے کلر کی بھی ہدایت پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔حالیہ پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹینکروں، ٹرانسپورٹس کے کرائے میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔یہ بات عام ہے کہ ہائیڈرنٹس کے منافع بخش کاروبار میں سیاسی،سرکاری افسران دیگر بااثر شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے۔جو گذشتہ نیلامی میں ناکام ہوئے تھے انہوں نے بھی جدوجہد تیز کردی ہے۔اب مافیا کا ایک میلہ لگے گا جس میں سیاسی، مذہبی، سماجی کاروباری طبقہ کے علاوہ زیر زمین کاروبار کرنے والے بھی شامل ہوں گے۔کراچی میں زمینوں کے بعد سب سے کم وقت میں پیسہ کمانے کا آسان طریقہ و شعبہ ہائیڈرنٹس اور ٹینکرز کا کاروبار ہے،جس میں معاشرے کا ہر با اثر فرد بیتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button