سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر و وزیر بلدیات فیصل ممتاز راٹھور کے ترجمان نے گذشتہ روز حلقہ تین سٹی مظفرآباد پارٹی ورکرز کنونشن میں مقررین کی تقاریر جو سوشل و پرنٹ میڈیا کی زینت بنی ہیں پر اپنا تحریری موقف دیتے ہوے کہا ہے کہ حلقہ تین شہر پاکستان پیپلزپارٹی کا ہمیشہ سے گڑھ رہا ہے لیکن بدقسمتی سے صاحبزادہ اسحاق ظفر مرحوم کی رحلت کے بعد اس حلقہ پر لیڈرشپ کی طرف سے توجہ نہیں دی گئی جس وجہ سے پارٹی مسلسل گذشتہ 4 انتخابات ہاری ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی لیڈرشپ خصوصآ محترمہ فریال تالپور کی ذاتی خواہش پر سابق آزاد امیدوار مختار احمد عباسی جو موجودہ اپوزیشن لیڈر سے بہت کم مارجن سے ہارے انہیں پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین اور سابق پارٹی صدر و موجودہ سپیکر چوہدری لطیف اکبر کی مشاورت سے پارٹی میں شامل کیا گیا جس کا نہ صرف مظفرآباد شہر بلکہ آزاد کشمیر بھر میں مثبت پیغام گیا آئندہ چند ماہ میں دیگر حلقہ جات جہاں پارٹی کمزور ہے نئے لوگوں کو شامل کیا جائے گا پارٹیاں کسی کی ذاتی ملکیت نہیں لوگ پارٹیوں میں اتے جاتے رہتے ہیں نئے لوگوں سے پارٹیوں میں موجود جمود ٹوٹتا ہے اور کارکنان میں مقابلے کا رجحان پیدا ہوتا جس کی مثال مظفرآباد میں حالیہ کنونشن ہے ترجمان نے مزید کہا مختار احمد عباسی سے فیصل ممتاز راٹھور کے کوئی ذاتی مراسم نہیں تھے بلکہ وہ ماضی قریب میں انکے حریف چوہدری محمد عزیز مرحوم کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے لیکن پارٹی لیڈرشپ کی خواہش پر انہیں پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی جو انہوں نے قبول کی اور فریال تالپور کی موجودگی میں شامل ہوئے جنہیں سابق امیدوار سردار مبارک حیدر نے بھی خوش آمدید کہا اس کے باوجود اگر کسی کو پارٹی لیڈرشپ اور فریال تالپور کے فیصلہ سے اختلاف ہے تو انکے سامنے اپنے تحفظات رکھنے کا حق رکھتا ہے ترجمان کا کہنا تھا کہ پارٹی کنونشن میں کارکنوں کا کھل کر بات کرنا پاکستان پیپلزپارٹی کا کلچر ہے کارکنوں کے تحفظات جائز بھی ہیں انکو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ترجمان نے کہا کہ سردار مبارک حیدر پارٹی کے بنیادی ورکر ہیں سردار مختار احمد عباسی کی شمولیت سے انکی عزت و وقار میں کوئی کمی نہیں آئی آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور مرکزی پارلیمانی بورڈ نے کرنا ہے اس لیے کارکنان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ترجمان نے مزید کہا کہ کارکنان کا تحفظات کا اظہار کرنا اچھی بات ہے ہم مرکزی لیڈرشپ کے فیصلہ کی روشنی میں حکومت کا حصہ ہیں یہاں عملا” ایم ایل ایز کی حکومت ہے اس لیے جن حلقہ جات پاکستان پیپلزپارٹی کے مخالف ایم ایل ایز ہیں وہاں پارٹی کے وزرا بھی انکی مرضی سے ہٹ کر کام کاج اور اپنے کارکنوں کا تحفظ نہیں کرسکتے جس وجہ سے ان حلقہ جات میں کارکنوں کی شکایات 100 فیصد درست ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ جب تک فیصل ممتاز راٹھور سمیت دیگر ممبران قانون ساز اسمبلی حکومت کا حصہ ہیں وہ حکومت کے ہر فیصلہ میں برابر کے شریک ہیں اور اخلاقی طور پر بھی وزراء زمہ داری قبول کرنے کے پابند ہیں۔بصد احترام چوہدری یاسین جوحکومت کو لولی لنگھڑی کہتے ہیں نہ صرف ان بیٹا کابینہ کا حصہ ہے بلکہ وہ خود بھی کابینہ کا حصہ بننے پر بضد تھے لیکن چیئرمین بلاول بھٹو اور فریال تالپور راضی نہ ہوئے۔مرکزی لیڈرشپ آج فیصلہ کرتی ہے تو فیصل ممتاز راٹھور حکومت سے علیحدگی میں ایک لمحہ تاخیر نہیں کریں گےاور اگر آزادکشمیر کی پارٹی لیڈرشپ مرکزی لیڈرشپ سے ہٹ کر بھی اگر حکومت سے علیحدہ ہونا چاہتی ہے تو چوہدری لطیف اکبر اور عامر یاسین کے بعد فیصل راٹھور تیسرے شخص ہونگے جو کابینہ سے الگ ہوجاہیں گے لیکن ایک طرف حکومت انجوائے کرنا اور دوسری طرف کارکنوں کے جذبات سے کھیلنا مناسب نہیں فیصل ممتاز راٹھور اپنی مرضی سے کابینہ کا حصہ بنے اور نہ ہی پورٹ فولیو کی ڈیمانڈ کی وہ ذاتی طور پر پورا وقت پارٹی کو دینا چاہتے تھے ترجمان نے کہا کہ سردار مبارک حیدر کو ووٹ دینے والے کارکنوں کی تنقید سر آنکھوں پر لیکن چند مقررین جنہوں نے گذشتہ 3 الیکشنز میں پارٹی امیدوار کے بجاے مخالفین کو ووٹ کیے اور احساس کمتری کا شکار ہیں انکی طرف سے چوہدری محمد ریاض اور فیصل ممتاز راٹھور سمیت دیگر وزراء پر پارٹی صدر اور چوہدری لطیف اکبر کی موجودگی میں بیہودہ الزامات پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہیکہ دونوں سینئر زعما حکومت میں شمولیت سمیت تمام معاملات سے بخوبی آگاہ ہونے کے باوجود انہیں اصل صورتحال بتانے اور جھوٹے الزامات سے روکنے کے بجاے خاموش رہے جو حوصلہ افزائی کے مترادف ہے ترجمان نے وانی نامی شخص کی ممتاز راٹھور مرحوم کی ذات پر تنقید اور فیصل ممتاز راٹھور پر جھوٹے الزامات چاند پر تھوکنے کے مترادف قرار دیتے ہوے کہا کہ یہی وانی 5 سال پہلے فیصل ممتاز راٹھور کے چوہدری لطیف اکبر کے خلاف کان بھرتا تھا لیکن فیصل ممتاز راٹھور چوہدری لطیف اکبر کا ممتاز حسین راٹھور کا ساتھی اور سنئر ہونے کی وجہ سے بے حد احترام کرتے ہیں وہ پارٹی لیڈرشپ کے فیصلوں اور ڈسپلن کے پابند ہیں انکی کسی حلقہ کے اندرونی معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہاں اگر مرکزی لیڈرشپ کوئی ذمہ داری دے تو وہ بے خوف و خطر پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں ترجمان نے کہا کہ وانی نامی جیسے لوگوں کا خمیر ہی سرکاری سکیمیں کھانے والا ہے اسے توجہ درکار ہے وہ بے ہودہ الزامات ثابت کرے یا پارٹی سیکرٹری جنرل سے معافی مانگے پارٹیاں ڈسپلن باہمی احترام سے چلتی ہیں جو بیہودہ الزامات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں وہ کل خود بھی ان الزامات کی زد میں آ سکتے ہیں۔
Read Next
2 ہفتے ago
حکومت آزاد کشمیر نے 13 سیکرٹریز تبدیل کر دیئے،ارشاد قریشی بلدیات، عامر لطیف سروسز،راشد حنیف سیکرٹری اطلاعات تعینات
4 ہفتے ago
*چوہدری محمد رفیق نئیر وزیر اطلاعات آزاد کشمیر بھی بن گئے*
4 ہفتے ago
وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت ہیلتھ کارڈ سروسز کے اجراء کے حوالے سے اہم اجلاس
4 ہفتے ago
آزادکشمیر اسمبلی کی مہاجرین نشتوں کا معاملہ، اعلی سطحی وفاقی کمیٹی کا پہلا اجلاس 2 جنوری کو وزارت امور کشمیر میں طلب.
دسمبر 30, 2025
آزادکشمیر اسمبلی کی مہاجرین سیٹوں کا مستقبل ۔۔9 رکنی کمیٹی قائم
Related Articles
آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن کے ممبر سید نظیر الحسن گیلانی کی سربراہی میں اعلٰی سطحی اجلاس
دسمبر 29, 2025
حکومت آزادکشمیر نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ معاہدے کے مطابق جاں بحق افراد کے ورثاء کو معاوضہ جات اور ایک ایک فرد کو ملازمت دیدی
دسمبر 24, 2025
انتقامی تبادلوں کی روش کو مسترد کرتے رہے ہیں،آئندہ بھی کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی،وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور
دسمبر 24, 2025



