وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ بلدیات کا اہم اجلاس،2061 دیہی یونین کونسلز میں صفائی کے پروگرام کی منظوری

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ بلدیات کا اہم اجلاس منعقد ہوا ۔ متعلقہ اراکین صوبائی کابینہ، چیف سیکرٹری، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور محکمہ بلدیات کے حکام نے شرکت کی۔صوبے میں صفائی ستھرائی کے لئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا اہم اقدام،صوبہ بھر کے دیہات کے ویلج کونسلز میں صفائی ستھرائی کے لئے خصوصی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔

جس کے مطابق پہلے مرحلے میں صوبے کی 2061 دیہی یونین کونسلز میں یہ پروگرام شروع کیا جائے گا۔ اس پروگرام پر عمل درآمد کے لئے ابتدائی طور پر ساڑھے 5 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، پروگرام کے تحت ہر یونین کونسل کے لئے 4 افراد پر مشتمل صفائی عملہ بھرتی کیا جائے گا، یہ عملہ یومیہ اجرت کی بنیاد پر بھرتی کیا جائے گا۔وزیر اعلٰی کو بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ یومیہ اُجرت پر عملے کی بھرتی کے لئے ایک صاف اور شفاف طریقہ کار وضع کیا جائے گا، یہ عملہ یونین کونسل کی سطح پر گھر گھر جا کر کوڑا کرکٹ اٹھا کر ٹی ایم اے کے کلیکشن پوائنٹ تک پہنچانے کا کام کرے گا، ابتدائی طور پر ہر یونین کونسل میں کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور صفائی کے لئے ایک لوڈر گاڑی اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جائے گا۔متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر، تحصیل میونسپل آفیسر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ پروگرام پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گے، پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے منتخب بلدیاتی نمائندوں اور کمیٹی کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا، پروگرام پر عمل درآمد کی نگرانی کے لئے مانیٹرنگ کا ایک مؤثر نظام وضع کیا جائے گا۔صوبائی کابینہ کے اگلے اجلاس میں باقاعدہ منظوری کے فوری بعد پروگرام کا عملی اجراء کیا جائے گا۔دوسرے مرحلے میں صوبے کی پہاڑی علاقوں کی یونین کونسلز میں یہ پروگرام شروع کیا جائے گا۔ وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ

یہ پروگرام موجودہ صوبائی حکومت کا ایک سگنیچر پروگرام ہے، صوبے تاریخ میں پہلی دفعہ ہم دیہاتی علاقوں میں سنیٹیشن سروسز کا آغاز کر رہے ہیں، کوشش ہے کہ 14 اگست تک پروگرام کا باضابطہ اجرا کریں۔ اس پروگرام سے نہ صرف دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی یقینی ہوگی بلکہ ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی ملیں گے، پروگرام پر مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق عمل درآمد کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔صفائی عملے کی بھرتی میں مروجہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد اور شفافیت کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے، اس پروگرام کو دیر پا بنیادوں پر چلانے کے لئے لائحہ عمل بنایا جائے۔

جواب دیں

Back to top button