کراچی(رپورٹ۔اسلم شاہ)بلدیہ عظمٰی کراچی میں کچی آبادی کی اہم لیز فائلیں، نقشہ جات سمیت دیگر سرکاری ریکارڈز فائلوں سمیت غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ پابندی کے باوجود سابق ڈائریکٹر کی بعض متنازعہ پلاٹوں کی لیز میں سنگین بے ضابطگیوں کی تصدیق ڈیپارٹمنٹ نے کی ہے۔ گلشن نور اور دیگر علاقوں کی جعلی لیز پکڑی گئی ہے جبکہ درجنوں لیز کے معاملات میں بے قاعدگیوں کے باعث کاروائی روک دی گئی ہے۔ مبینہ طور پر سابق سینئر ڈائریکٹر ارشاد احمد ولد محمد یوسف کے خلاف سرکاری ریکارڈز اپنے ہمراہ لے جانے پر تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔ ارشاد احمد کو تبادلہ سے قبل لیز میں سنگین بے قاعدگیوں پر حکومت نے عہدے سے معطل کردیا تھا جبکہ ارشاد احمد کے خلاف کئی مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ذرائع کے مطابق سابق سینئر ڈائریکٹر نے عہدے سے معطلی کے باوجود اپنا دفتر نہیں چھوڑا تھا اور اس عہدے پر فراز احمد۔شیخ کی تعینات کے حکم نامہ جاری ہونے کے بعد شام گئے کچی آبادی کے فائلیں، ریکارڈز، نقشہ جات اور دیگر سرکاری دستایزات اپنے ہمراہ لے گئے جس کی ویڈیو میں انکشاف ہوا ہے، جن میں برسوں سے روکا گیا کئی متنازعہ پلاٹوں کی لیز اور ملکیت ٖٹرانسفر کرنے کی تصدیق کچی آبادی حکام نے کردی ہے۔ اس بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سنگین بے قاعدگیوں کا مراحلہ وار پتہ چل رہا ہے، اس سلسلے میں چھان بین جاری ہے جس سے مزید ریکارڈز سامنے آسکتے ہیں جس سے ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ عوام بھی متاثر ہوں گے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق سینئر ڈائریکٹر ارشاد احمدکا دعوی کرتے رہے کہ وہ سسٹم چلارہے ہیں اور انہیں میئر کراچی مرتضی وہاب کی سرپرستی بھی حاصل ہے وہ جلد اپنے عہدے پر واپس آ جائیں گے۔ ابتدائی تحقیقات میں کراچی کے سب سے متناعہ گلشن نور تیسر ٹاون ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے این او سی جاری نہیں کیا۔ جن پلاٹوں پر گلشن نور کا قبضہ ہے وہ تیسر ٹاون کے الاٹیز کو الاٹ کیا گیا تھا اور شیر شاہ، بلدیہ ٹاون مواچکوھ گوٹھ، یوسف گوٹھ، گزری، دہلی کالونی، پنجاب کالونی، پی این ٹی کالونی، پرانی سبز منڈی، محمود آباد، منظور کالونی اشرف کالونی، لانڈھی ،کورنگی، گلشن اقبال سمیت دیگر متنازعہ علاقوں، کے اربوں روپے مالیت کے پلاٹوں کو ٹھکانے لگایا جاچکا ہے اور سرکاری نقشہ جات اور اہم فائلیں غائب کرکے محکمہ کا کام معطل کرنے کی کوشش کی گئی ہے،حکام کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ریکارڈز میں ردوبدل کیا گیا ہے تو جعلسازی میں پکڑ میں آسکتا ہے۔ غائب ہونے والی سرکاری فائلیں اور نقشہ جات کی گمشدگی پر فوجداری مقدمات درج ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق ارشاد آرائیں اتنا بڑا فراڈی اور جعلساز ہے کہ یہ بیک وقت لانڈھی ٹاون اور ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سے ڈبل ملازمت کے ساتھ ڈبل تنخواہیں بھی وصول کرتا رہا ہے۔ جب کلک کے سافٹ وئیر ۲۵۰ ملا میں پکڑے گئے جس میں وہ ڈبل تنخواہیں وصول کر رہے تھے تو اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے کے۔ایم۔سی میں اپنی پوسٹنگ کروا لی اور کے ایم سی میں خود کو ایس سی یو جی کا ملازم ظاہر کرتا ہے۔
ارشاد احمد ارائیں جعلی اپائمنٹ، جعلی ترقی اور چائینہ کٹنگ کا ماسٹر ہے۔ باغ کورنگی اور لانڈھی میں کونسل افسر بن کر جعلی قراردادیں بنا کر چائینہ کٹنگ کا بے تاج بادشاہ بن گیا ہے۔ ارشاد احمد آرائیں گریڈ ۵ میں شکار پور میں سندھ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں اپائنٹ ہوا اور پھر کراچی میں صدر ٹاؤن میں ماڈرن گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول رنچھوڑ لائن عقب این جے وی ہائر سکینڈری اسکول میں پرائمری ٹیچر تعینات ہوا۔ سابق سینئیر ڈائریکٹر ارشاد احمد آرائیں کو بالآخر ۱۲ ستمبر ۲۰۲۴ کو ایک رسمی حکمنامہ کے ذریعے معطل کر کے گمان ہے کہ کسی معاملے سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ فراڈی، دھوکے باز اور جعلسازی کے باوجود معطلی کے حکمنامہ میں نہ تو اسکی سروس (ایس سی یو جی۔ کونسل سروس۔ یا صوبائی حکومت) کسی کا بھی ذکر تک نہیں ہے اور نہ ہی دوران معطلی اس کا رپورٹنگ اسٹیشن ظاہر کیا گیا ہے۔ ان باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ایک رسمی کاروائی ہے، اگر واقعی ارشاد احمد آرائیں کی معطلی کا سبب شکایتیں، سرکاری احکامات ماننے سے انکار یا اپنے عہدے اور اختیارات سے تجاوز ہے تو معطلی کے حکمنامے میں گریڈ کا تذکرہ تک نہیں آیا کہ کس طرح گریڈ 19 حاصل کیا کیونکہ چیف سیکریٹری آفس میں اس کی ترقی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ معطلی کا سبب بننے والے عوامل پر چارج شیٹ جاری نہ ہوسکی، جس سے اس کی سروس کا تعین کیا جائے کہ آیا یہ کونسل کا ملازم ہے، یا ایس سی یو جی کا یا پھر حکومت سندھ کا ملازم ہے۔ ارشاد آرائیں کے سروس ریکارڈ کا فارنزک آڈٹ کرایا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ کے ایم سی کے پے رول ڈپارٹمنٹ سے کس نے میونسپل کمشنر کے نام پر تیس لاکھ(تین ملین) روپے وصول کیئے۔ ارشاد آرائیں کا محکہ ایچ آر ایم میں کون سہولت کار ہے۔ نیب، اینٹی کرپشن اور وزارت بلدیات کی انکوائریز کو بھی موجودہ معطلی کے دوران چارج میں شامل کیا جائے۔ علاوہ ازیں کچی آبادی بلدیہ عظمی کراچی میں سنگین بے قاعدگی پر سینئر ڈائریکٹر نواز احمد شیخ نے کچی آبادی کی لیز،سب لیز اور ملکیت ٹرانسفر پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ پہلے سے موجود لیز اور موٹیشن کی فائلیں روک دی گئی ہیں۔ نمائندہ سے خصوصی بات چیت کے دوران انتہائی ذمہ دار نے بتایا کہ انہوں نے محکمہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ہے۔ پلاٹوں کی لیز، سب لیز اور موٹیشن پر بننے والی اسکروٹنی کمیٹی میں تین کے بجائے پانچ رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو ہر فائل کی جانچ پڑتال کے بعد حتمی رپورٹ جاری کرے گی۔ پہلے مراحلے میں پلاٹوں کی موٹیشن کا اجراء کریں گے۔ لیز، کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ میں پلاننگ کو از سر نو تشکیل دیا گیا ہے۔ فائلیں،نقشہ جات کی ریکارڈز پر کام کررہے ہیں، آئی ٹی کا شعبہ غیر فعال تھا اس کو مضبوط کر رہے ہیں۔ تمام ریکارڈز اور نقشہ جات کو ڈیجیٹل کریں گے۔ یہ بہت لمبا کام ہے اس لیئے یہ جلد ممکن نہیں ہے تاہم ابھی سے منصوبہ ہندی کر رہے ہیں کہ کچی آبادی کا ریکارڈز کمپیوٹرائز ہو جائے۔ ایک کلک پر پلاٹ کا ریکارڈ سامنے آجائے۔ محکمے کی مالیاتی امور پر بھی توجہ ہے جن کو منصوبہ بندی کے ذریعے اس میں اضافہ کیا جائے گا۔ سینئر ڈائریکٹر فراز احمد شیخ کا کہنا ہے کہ ادارے میں پہلے توجہ نہیں دی گئی اب تمام شعبہ جات کو ازسر نو تشکیل دیا جارہا ہے۔ مختلف کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو ادارے میں بہتری لائے گی اور نادرا سے لنک ہونے کی وجہ سے جعل سازی اور دھوکہ دہی میں نمایاں کمی آگئی ہے۔ انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گلشن نور کی چھ فائلیں سامنے آ گئی ہیں جبکہ مزید لیز ہونے کی تصدیق سب رجسٹرار نے کی ہے، جن کی لیز ہوچکی ہے اور کئی علاقوں کے پلاٹوں کی متنازعہ لیز کے بارے میں اطلاعات مل رہی ہیں۔ سابق سینئر ڈائریکٹر کے سنگین نوعیت کی بے قاعدگیوں پر تحقیقات ہونا چاہیئے۔ میں جب تک ہوں اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرتا رہوں گا۔






