وزیراعلیٰ سندھ اچانک سکولوں کے دورے پر پہنچ گئے،سکولوں اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی جاننے کےلیے اچانک دورے کرتا رہوں گا، مراد علی شاہ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صوبے کے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو جدید ڈیجیٹل لرننگ سسٹمز کے ذریعے معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ فعال شراکت داری کرنے والی غیر منافع بخش تنظیموں کی کوششوں کو سراہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے ان مثبت خیالات کا اظہار پیر کے روز کورنگی کے پسماندہ علاقوں میں دو مختلف این جی اوز کے تحت سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ساتھ الحاق میں چلائے جانے والے اسکولوں کے اچانک معائنے کے دوروان کیا۔

ان کا پہلا دورہ بلال کالونی میں گرین کریسنٹ ٹرسٹ ( جی سی ٹی) اسکول تھا۔ پرنسپل ارم فاطمہ نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ اسکول میں کم آمدنی والے خاندانوں کے 559 طلباء زیر تعلیم ہیں اور یہاں آٹھویں جماعت تک تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، اسکول پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے پری اسکول کی تعلیم بھی فراہم کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن شراکت دار اسکولوں کو بچوں کے داخلے کی بنیاد پر باقاعدہ مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ آج کل سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن این جی او کی طرف سے چلائے جانے والے اسکولوں کو 1300 روپے فی بچہ ماہانہ مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے وزیر تعلیم پر زور دیا کہ وہ شہر میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے منسلک اسکولوں کے باقاعدہ معائنے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنے چاہئیں۔

دورے کے دوران پرنسپل نے بتایا کہ اسکول کی محدود گنجائش کے باعث وہ مستحق خاندانوں کے 1,000 سے زائد بچوں کو داخلہ دینے سے قاصر ہیں۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے انہیں یقین دلایا کہ ان کی حکومت اسکول کی گنجائش بڑھانے کی کوششوں میں تعاون کرے گی اور انہیں مشورہ دیا کہ اس سلسلے میں وزیر تعلیم سے رابطہ کریں۔

وزیر اعلیٰ نے کلاس رومز کا دورہ کیا اور طلبہ سے گفتگو کی، تعلیمی سرگرمیوں اور روزانہ حاضری رجسٹر کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن کے صدر شفیق خان بھی موجود تھے، جنہوں نے وزیر اعلیٰ کو پسماندہ علاقوں کے بچوں کے لیے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے جدید ٹیکنالوجی سے معاون تدریسی طریقوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

گرین کریسنٹ ٹرسٹ گزشتہ 30 سالوں سے سندھ میں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے اور صوبے کے دور دراز علاقوں میں 170 فلاحی اسکولوں کا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ ان اسکولوں میں اس وقت کم آمدنی والے خاندانوں کے 32,800 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے 19 اسکول سندھ ا یجوکیشن فاؤنڈیشن سے منسلک ہیں، جن میں 12 کراچی میں واقع ہیں۔ ماتلی میں واقع ایک بہترین کیمپس انگریزی زبان میں تعلیم فراہم کرتا ہے اور جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہے۔

ڈیجیٹل مائیکرو اسکول

بعد ازاں، وزیر اعلیٰ نے عوامی کالونی میں ڈیجیٹل مائیکرو اسکول کا دورہ کیا، جوا بھی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ اسکول میں 100 طلبہ کو تعلیم دینے کے لیے ٹیبلٹ کمپیوٹر استعمال کیے جا رہے ہیں، یہ تمام طلبہ پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور پہلے کبھی اسکول نہیں گئے ۔ وزیر اعلیٰ نےکلاس روم کے فرش پر بیٹھے اور بچوں کے ساتھ گھل مل کر بات چیت کی۔

دورے کے دوران وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے طلبہ کے ٹیبلٹ کمپیوٹرز کے ذریعے انگریزی اور ریاضی جیسے مضامین کی باقاعدہ کلاس روم تعلیم کے عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اچانک دورے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ پسماندہ علاقے میں ٹیبلٹ کمپیوٹر کے استعمال کا تعلیمی نتائج پر کیا اثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ طریقہ کار طلبہ کی تعلیم کے لیے مؤثر ثابت ہوا تو اسے دیگر اسکولوں تک بھی وسعت دی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے زیر تعلیم بچوں کے خاندانوں سے بھی بات چیت کی جن میں سے بیشتر مزدور ہیں اور ان کے بہن بھائیوں کے لیے تعلیمی مواقع کے بارے میں دریافت کیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے عوامی کالونی کے رہائشیوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور فوری حل کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے خاندانوں پر زور دیا کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم دلوانا یقینی بنائیں کیونکہ یہ ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

آخر میں وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ تعلیمی اداروں، پولیس اسٹیشنز، ریونیو دفاتر، اور دیگر عوامی سہولیات کے اچانک دورے جاری رکھیں گے تاکہ ان کی کارکردگی، فعالیت، اور مؤثر ہونے کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کراچی میں بلدیاتی اداروں خاص طور پر شہر کے صفائی ستھرائی کے مسائل کو حل کرنے کے آپریشنز کا بھی جائزہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا۔

جواب دیں

Back to top button