بلدیاتی اداروں بشمول واسا کمپنیز کے حکام ہوش کے ناخن لیں۔۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

بلدیاتی اداروں بشمول واٹر اینڈ سینیٹیشن کمپنیز کے حکام بالا ہوش کےناخن لیں اور بلدیاتی اداروں کے ساتھ ساتھ واسا کمپنیز کو دیوالیہ ھونے سے بچانے اور بلدیاتی اداروں کی مالی حالت کی بہتری کے لئے کوششیں بروئے کر لائیں۔ صوبہ بھر کے بلدیتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں سے محروم چلے آ رہے ھیں جبکہ واسا کمپنیز نے مستقل ملازمین کے علاوہ کنٹریکٹ پر کمپنی کیڈر کے ملازمین بھرتی کرنے پر زور دے رکھا ھے۔تفصیلات کے مطابق ڈبلیو ایس ایس سی ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹی ایم اے کے مستقل سٹاف کی موجودگی کے باوجود نئے بھرتیوں کے اشتہار جاری کرنا شدید تشویش کا باعث ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ادارہ سنگین مالی بحران سے دوچار ہے، اس طرح کے غیر ضروری اور شاہانہ اقدامات عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کھلی زیادتی اور ادارہ جاتی بدانتظامی کی واضح مثال ہے۔ ڈبلیو ایس ایس سی نے کم و بیش 2 ہزار ملازمین پچھلے 10 سالوں سے کنٹریکٹ پر رکھے ھوئے ہیں پہلے ان کو مستقل کریں اور بعد میں نئے لوگوں کو بھرتی کرے لیکن وہ بھی کمپنی ایکٹ کے نہیں بلکہ ٹی ایم اے کے مستقل ارڈر کے ذریعے بھرتی کئے جانے چاھئیں۔واسا جیسے عوامی خدمت کے ادارے کو لوٹ مار اور اقرباء پروری کا ذریعہ بنانے کی بجائے اس کی اصلاح، کفایت شعاری اور شفافیت پر توجہ دی جانی چاہئے۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

نے واسا کمپنی کے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ھوئے صوبائی حکومت اور کمپنیز کے اعلیٰ حکام سے ہرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ادارے کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے فوری اقدامات اٹھا کر بلاتاخیر تمام واسا کمپنیز کے کمپنی کیڈر ملازمین کو مستقل کرنے کے احکام جاری کرکے غریب ملازمین کی دادرسی فرمائی جائے نیز عوامی حلقوں نے بھی اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ھے۔

جواب دیں

Back to top button