کراچی(رپورٹ۔ اسلم شاہ)لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی(LDA) کی اسکیم 42 میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیئے مختص دو بلاک کے تمام پلاٹوں پر مبینہ طور پر سابق وزیر بلدیات مبین جمانی نے زبردستی قبضہ جما لیا ہے۔ ادارہ قابضین کے خلاف کاروائی سے گریز کر رہا ہے کیونکہ وہ انتہائی با اثر شخصیت ہے۔ ڈالروں میں ادائیگی کرنے والے ساڑھے چار ہزار الاٹیز پلاٹس سے محروم ہوگئے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل LDA کا کہنا ہے کہ المیہ یہ ہے کہ مبینہ طور پر دو گریڈ 18 کے افسران قبضہ کی چھان بین کرنے گئے تھے لیکن ان پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ سندھ حکومت نے ادارے کے افسران کو خاموشی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر بلدیات مبین جمانی کے آدمی تقریبا 50 ایکٹر اراضی پر قبضہ کر کے چار دیواری تعمیر کررہے ہیں۔ بورڈ آف ریونیو جس جگہ کے کاغذات دکھا رہے ہیں وہ کسی اور دیہہ میں موجود ہے۔ ان کو اسکیم 42 پر قبضہ کرکے دینے کا مقصد کچھ اور ہے۔ بلاک 16 میں تین ہزار پلاٹس اوورسیز پاکستانیوں کو 1992ء میں الاٹ کی گئی تھیں جبکہ بلاک 24 بھی اوورسیز پاکستانیوں کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ مبینہ طور پر آسکانی نے بلاک ون کے الاٹ شدہ پلاٹس پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے بلاک 2-A کی زمین پر ایک قبرستان قائم کیا ہے، اسی بلاک میں پریس کلب(صحافیوں) کے 258 ممبران کے پلاٹس موجود ہیں۔ بلاک ون پر 400 گز کے پلاٹس موجود ہیں۔ بلاک 14 اور 28 کی زمین پر پہلے ہی قبضہ ہوچکا ہے۔ ایک بلاک پر الاٹ شدہ زمین سے ریتی بجری نکال کر 100 فٹ گہرا گڑھا کھود دیا گیا ہے۔ ہاکس بے کے ایکس نفیس آٓغا اور اینٹی انکروچمنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر ؑعبد السمیع بھٹو کے خلاف سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والوں کی چھان بین کرنے پر مقدمہ درج ہونے کے بعد ضمانت پر ہے اورسندھ حکومت نے 30 سال کے بعد اسکیم 42 کی دیہہ مچھ کی ناکلاس ون میں 3945 ایکٹر اراضی اور دیہہ لال بکھر کی ناکلاس 255 کی 3179 ایکٹر اراضی کی لیز الاٹ کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 7124 ایکٹر اراضی الاٹ کی گئی ہے،41 سال قبل 1984ء میں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو اسکیم 42 کے لئے 20900 ایکٹر اراضی 24 جولائی 1984ء کو الاٹ کی گئی تھیں،جن میں 9450 ایکٹر اراضی اسکیم 42 سے قبل محروم کردیا گیا اور صرف 11450 ایکٹر اراضی الاٹ کی گئی ہے، جس میں 2023ء میں BOR کی لینڈ یوٹیلائزیشن نے اسکیم 42 کو دو دیہات میں صرف 7124 ایکٹر اراضی الاٹ کی گئی اور اب 31 مئی 2025ء میں جو لیز جاری کی گئی ہے اس میں 4336 ایکٹر اراضی سے محروم کردیا گیا ہے اور BOR اور بعنوان ریونیو افسران کے غیر قانونی اقدامات کو تحفظ دیدیا گیا ہے۔ ہاکس بے میں موجود بڑے بڑے گودام، وئیر ہاوسز، اسمگلرز شدہ اسٹورز کی اشیاء رکھنے کیلئے غیر قانونی طور پر الاٹ کردی گئی ہے۔ اسکیم پر پلاننگ متعلقہ ڈپارٹمنٹ یعنی LDA نے نہیں کی ہے اور یہ غیر قانونی پلاٹس اسکیم میں شامل ہیں۔ BOR پلاننگ کا محکمہ نہیں ہے۔ اسکیم 42 کے بلاک 6،9 اور 10کو لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو دے دیا گیا ہے۔بلاک 24 میں ریتی بجری نکالنے اور بلاک 23،27،28 اور 28-A نالے کی گزرگاہ بن جانے کی وجہ سے ہزاروں الا ٹیز اپنے قیمتی پلاٹ سے پہلے ہی محروم ہوچکے ہیں بلاک 42,،43 اور 44 میں الاٹیز کو پہلے قبضہ دینے اور پھر تعمیرات سے روک دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان ہاوسنگ اسکیم کے تحت 500 گھر بنانے کے لئے زمین الاٹ کی گئی تھی، مبینہ طور پر ڈپٹی کمشنر کیماڑی اور غربی نے 635 ایکٹر اراضی اسکیم ہاکس بے کے زمین الاٹ کرنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ 2012ء میں ڈبل الاٹمنٹ اور مجاز اتھارٹی کے بغیر اسکیم کے مختلف بلاک میں 7600 پلاٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی ہے جن میں سابق ناظم کراچی سید مصطفی کمال کے ساتھ صوبائی وزراء کے علاوہ افسران کی بڑی تعداد نے پلاٹ الاٹ کیئے تھے۔ ہاکس بے اسکیم 42 کے الاٹیز جائیدادوں کے منتظر ہیں۔ LDA کی اسکیم 42 میں ہونے سے ہزاروں الاٹیز کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے جبکہ، امیر حسین ولد مدد کی چار ایکٹر اراضی الاٹ کردی گئی ہے۔ ہاکس بے میں شہری کو بورڈ آف ریونیو نے 2012ء میں ناکلاس 255، دیہہ لال بکھر میں چار ایکٹر زمین پولٹری فارم کے لئے 30 سالہ لیز پر الاٹ کیا تھا یہ زمین اسکیم 42 کے سیکٹر 68 میں موجود ہے،دلچسپ امر یہ ہے کہ شہری کو 2012ء میں زمین الاٹ کی گئی جب پوری اسکیم کی زمین منسوخ ہوچکی تھی اور سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی تھی۔ شہری نے 2022ء میں زمین کا دعویٰ پیش کیا اور 2023 میں پولٹری فارم کی تعمیرات گرانے پر عدالت سے رجوع کیا تھا جبکہ صحافیوں کو لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے زمین 2022ء میں منتقل کی تھی۔ صحافیوں کو اسکیم 42 کے سیکٹر 2-A میں الاٹ کی تھی۔ ایک عسکری ادارے نے صحافیوں کی الاٹ شدہ 210 پلاٹس پر غیر قانونی قبرستان بنا کر چار دیواری قائم کردی ہے،جس کے نیتجے میں صحافیوں کو سیکٹر 68 میں متبادل پلاٹس الاٹ کیئے گئے ہیں جو تقریبا 22 ایکٹر اراضی پر مشتمل ہیں۔ان پلاٹس میں عدالت کی جانب سے حکم امتناعی جاری ہونے پر صحافیوں کے پلاٹس ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اسکیم 42 ہاکس بے میں بورڈ آف ریونیو اور ڈپٹی کمشنر کی غیر قانونی طور پر اربوں روپے زمین کی الاٹمنٹ کرنے کا گھناؤنا کاروبار جاری ہے۔ حال ہی میں اسکیم کی 635 ایکٹر اراضی کو ٹھکانے لگانے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کیماڑی نے اسکیم کے بعض بلاک کی زمین پر قبضہ جمانے اور الاٹیز کو اپنے قیمتی پلاٹ سے محروم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے صحافیوں کو پلاٹس ایک معاہدے کے تحت دیا تھا۔ 20 فیصد رقم کی صحافی ادائیگی کریں گے اور 80 فیصد پلاٹس کی مجموعی رقم سندھ حکومت ادا کرے گی،جس میں 1283 صحافیوں کے پلاٹ شامل ہیں۔ بلاک تھری میں 1522، تھری اے میں 194،ٹو میں 256 اور بلاک 68 میں 210 پلاٹ الاٹ کیئے گئے ہیں۔ اب تک سندھ حکومت پر ایک ارب 45 کروڑ روپے رقم واجب الادا ہے,لیکن صرف 15 کروڑ روپے ادائیگی کی گئی ہے۔ رقم نہ دینے پر اسکیم میں ترقیاتی کام کا آغاز نہ ہوسکا۔ صحافیوں کی ڈھڑے بندی کی وجہ سے کراچی کے صحافی 27 سال سے پلاٹس سے محروم ہیں۔اب الاٹمنٹ و دیگر مالکانہ حقوق دینے کی دعوی کیئے جا رہے ہیں۔
Read Next
1 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے چیئرمین نیب کی ملاقات، واگذار زمین صوبائی حکومت کے حوالے*
2 دن ago
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد،متعدد منصوبوں کی منظوری
2 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی امداد اور بحالی کا جامع پیکج منظور
3 دن ago
میئر ایڈووکیٹ انور علی لہر صاحب کی زیرِ صدارت میونسپل کارپوریشن لاڑکانہ کا عام روایتی اجلاس
3 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 6.135 ارب روپے سے تعمیر شدہ کورنگی کاز وے پل کا افتتاح کردیا*
Related Articles
حضرت لال شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے7 سے9 فروری 2026 تک جاری رہنے والے سہ روزہ عرس مبارک کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ
6 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ کا سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے پیکج کا اعلان،تمام امدادی اداروں کو ایک ہی کمان میں دینے کا فیصلہ
6 دن ago




