پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (PMDFC) اور عالمی بینک کے اشتراک سے پنجاب انکلوسیو سٹیز پروگرام (PICP) کے تحت ماحولیاتی و سماجی سسٹمز کے جائزے کے لیے ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

اس ورکشاپ کا مقصد ESSA رپورٹ پر ڈسکشن، پراجیکٹس کے نفاذ میں ماحولیاتی اور سماجی پہلوؤں کو مؤثر انداز میں شامل کرنا اور پالیسی و عملی سطح پر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی رہنمائی کرنا تھا۔ورکشاپ میں پنجاب کی پندرہ میونسپل کمیٹیوں کے ایڈمنسٹریٹرز، چیف آفیسرز، میونسپل آفیسران برائے انفراسٹرکچر و پلاننگ، کنسلٹنٹ فرمز، اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ یونیسیف، واٹر ایڈ، نب جی، ویسٹ منیجمنٹ کمپنیز (گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد)، ادارہ تحفظ ماحولیات، اربن یونٹ، سنگت فاؤنڈیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی ورکشاپ میں شریک ہوئے۔جبکہ پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی سے محمود مسعود تمنا، معین الدین شیخ،عدنان نثار، نعمان اختر، معظم جمیل ملک،سید عامر محمود شاہ اور رخسانہ شاہد بھی شریک ہوئے۔محکمہ بلدیات پنجاب کی سپیشل سیکرٹری محترمہ آسیہ گل نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب انکلوسیو سٹیز پروگرام کے تحت سیوریج، واٹر سپلائی اور سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کے منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں جن سے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ماحول دوست ترقی کو یقینی بنانے کے لیے میونسپل آفیسران کو بطور فوکل پرسن ماحولیاتی و سماجی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے، جبکہ سیوریج اور واٹر سپلائی منصوبوں کے مؤثر نفاذ کے لیے میونسپل آفیسر واٹسن کی بھرتی بھی کی جائے گی۔پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر، سید زاہد عزیز نے پروگرام کی تفصیلات پر مبنی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سٹیز ڈویلپمنٹ وژن میں PICP کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ جھنگ میں جدید لینڈ فل سائٹ کے قیام اور میٹیریل ریکوری فیسیلٹی جیسے اقدامات پروگرام کا حصہ ہیں۔ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے سٹارم واٹر ڈرینز اور سٹوریج ٹینکس بھی منصوبے کا اہم جزو ہیں۔ورلڈ بینک کے سینئر سوشل ڈویلپمنٹ اسپیشلسٹ، عمران الحق نے عالمی بینک کے طریقہ کار اور سماجی و ماحولیاتی تقاضوں پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک، مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر بہتر سروس ڈلیوری کے لیے اپنی معاونت جاری رکھے گا۔ انہوں نے صنعتی اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی ناقص نکاسی کے باعث زیرِ زمین پانی اور ماحولیاتی نظام کو لاحق خطرات پر بھی روشنی ڈالی۔ان کے ساتھ اس موقع پر ورلڈ بنک کے افسران صہیب رشید، اظہر الدین, سارہ کھوکھر اور حفیظ بزداربھی موجود تھے۔ ورکشاپ کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں ماہرین نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔





