*روڈا کے زیر اہتمام پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ برائے طبی سرمایہ کاری پر مذاکراہ*

راوی شہر میں صحت عامہ کی عالمی سطح پر سہولیات کی فراہمی ایک قابل فخر عمل، ملکی وغیر ملکی سرمایہ کار اس حوالے سے اربوں روپے کی انوسٹمنٹ کیلئے تیار،حکومت پنجاب نے ہیلتھ کیئر کے ان اقدام میں روڈاکو ہرقسم کی حمایت کا یقین دلادیا۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے روڈا کے زیر اہتمام پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ برائے طبی سرمایہ کار ی کے مذاکراہ میں خطاب کر تے ہوئے کیا۔ایوان وزیراعلٰی میں ہونیوالے اس مذاکراہ میں روڈا،محکمہ صحت کے حکام کے علاوہ مختلف ہسپتالوں، میڈیکل انسٹیوٹ، ڈینٹل کالجز، طبی مراکز کے نمائندگان بھی شریک ہوئے جبکہ ای ڈی کمرشل روڈا کاشف قریشی، فاطمہ علی خان ڈائریکٹر نے طبی سرمایہ کاری کے حوالے سے راوی شہر کے مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی

اس موقع پر سلطان طارق باجوہ پارلیمانی سیکرٹری برائے ہاؤسنگ پنجاب کا کہنا تھا کہ عوام کی خدمت کیلئے وزیر اعلی مریم نواز کے کلینک آ ن ویل منصوبہ کی طرح راوی شہر میں عالمی معیار کے طبی مراکز کا بنناخوش آئند ہے،حکومت راوی شہر کے ان ہیلتھ منصوبوں کو پوری معاونت فراہم کریگی۔مذاکراہ سے خطاب میں نور الامین مینگل سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ اربن پلاننگ پنجاب نے کہا کہ صوبہ میں صحت اور تعلیم کی سہولیات کو حددرجہ بڑھانے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی ہمیں شہر بساتے ہوئے صحت مراکز کے قیام کیلئے اراضی کی فروخت مناسب ریٹ پر کرتے ہوئے پرائیویٹ ہسپتالوں کو اس بات کا پابند بنانا چاہیے کہ وہ ان میڈیکل سنٹر میں 50فیصد غریب شہریوں کا علاج مفت کریں

پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ میں راوی شہر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران امین نے اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ راوی شہردنیا میں دریاکے ساتھ 46کلومیٹر لمبا ریور فرنٹ ہے جہاں پر 50لاکھ افراد سکونت پذیرہونگے 2020میں بننے والی راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی لاہور کے ساتھ ایسے شہر کا قیام عمل میں لائیگی جوماحول دوست اور اسٹیٹ آف دی آرٹ ہوگا وزیر اعلی مریم نواز کے ویژن پریہاں تعلیم اور صحت کی سہولیات عالمی سطح کے معیا ر زندگی سے مزین ہونگی جس کیلئے ہم نے شروعات کردیں طبی سرمایہ کاری کے حوالے سے آج کا مذاکراہ اس کی پہلی کڑی ہے جبکہ زیر زمین پانی کی کمی پوری کرنے کیلئے ہم دریا پر3بڑے بیراج بنائینگے9جنگلات کو محفوظ کرکے قدرتی زندگی بحال کرینگے جبکہ صاف ستھرا پانی یہاں آبی حیات کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کریگا۔بڑھتی آبادی کے مسائل سے نمٹنے کیلئےراوی سٹی میں آبادکاری ایک مربوط نظام کے تحت عمل میں لائی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ راوی شہر کے قیام میں ہمار ا بڑا ہدف دریا کا بہاؤ،چینلائزیشن ہے جس کیلئے ہم نے سائفن سے نیچے دریا کے دائیں بائیں 6کلومیٹر تک پشتے بنا دیے یہاں دریا کا پیٹ 1کلومیٹر رکھا گیاتاکہ مستقبل میں کسی بڑے سیلاب کے خطرہ سے نمٹا جا سکے صرف شاہدرہ کے پاس آبادیوں کی وجہ سے 4کلومیٹر ایریا میں دریائی پیٹ 800میٹر تک رکھا گیا۔دوران مذاکراہ شرکاء کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عمران امین کا کہنا تھا کہ دریا کے اطراف میں قائم تجاوزات خاتمہ کیلئے ہم نے ناجائز قابضین کونوٹس دیدیا جلد ان سے زمین خالی کر الی جائیگی، قانونی طور پر اراضی کے مالک افراد کو یہاں سے متبادل جگہ دیکر منتقل کیا جائیگا جبکہ کاروبار سے منسلک مکینوں کو ان کے ذریعہ معاش کیلئے مدد کی جائیگی۔اپنی گفتگو میں سی ای او روڈا نے مزید کہا کہ راوی شہر میں 30فیصد آبادی پہلے سے ہے جس کو اب ہم باقاعدہ اپنے ماسٹر پلان کے مطابق ڈیویلپمنٹ کے دائرہ کار میں لائیں گے ہمارا ٹرانسپورٹ نظام بھی ماس ٹرانزٹ سسٹم کیساتھ منسلک ہوگا۔راوی شہر میں گرین کور ایریا 40فیصد کرنے اور صنعتوں میں خاص قواعد وضوابط لاگو کرنیکی وجہ سے آئندہ سال تک سموگ کا خاتمہ یقینی ہو سکے گا

جواب دیں

Back to top button