سپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں بجٹ اکثریتی ووٹ سے منظور کیا گیا۔اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی نے بجٹ تجاویز پر تفصیلی بحث کی اور عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے اہم آراء پیش کئے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 88 ارب 19 کروڑ 20 لاکھ روپے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 37 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور دیگر الاؤنسز کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ وفاقی سطح کے منصوبوں میں بھی گلگت بلتستان کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے، جن میں وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے 11 ارب روپے اور وزیر اعظم کے پروگرام کے لیے 4 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔عوامی ریلیف کے پیش نظر گندم سبسڈی کی مد میں 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 7 ارب 89 کروڑ 20 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ تعلیم کے لیے 1 ارب 47 کروڑ روپے اور صحت کے لیے 1 ارب 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں 62 کروڑ روپے ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔ذراعت، لائیوسٹاک اور ماہی پروری کے شعبوں کے لیے 35 کروڑ روپے، سیاحت کے فروغ کے لیے 9 کروڑ روپے، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے 10 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔بجٹ اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے بجٹ کو عوام دوست اور تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود تمام طبقات کو ریلیف فراہم کرنے اور علاقے کے مسائل کے حل کے لیے جامع اقدامات کیے گئے ہیں۔اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نے تمام اراکین، اسمبلی سیکریٹریٹ، میڈیا نمائندگان اور متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بجٹ اجلاس کے کامیاب انعقاد میں بھرپور کردار ادا کیا۔






