*ڈبلیو ایس ایس پی خیبرپختونخواکمپنی کیڈر ملازمین کی چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ملک شہاب حسین ایڈوکیٹ سےملاقات*

پشاور (نمائندہ خصوصی) ڈبلیو ایس ایس پی کمپنی کیڈر ملازمین کی کابینہ نے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ملک شہاب حسین ایڈوکیٹ سے ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد کمپنی کیڈر ملازمین کو درپیش دیرینہ اور سنجیدہ نوعیت کے مسائل کو اعلیٰ سطح پر اجاگر کرنا تھا تاکہ اُن کا فوری اور مؤثر حل ممکن بنایا جا سکے۔اس اہم ملاقات کی قیادت خادم کمپنی کیڈر ناصر خان افریدی نے کی۔ اُن کے ہمراہ کابینہ کے نمایاں اراکین سلیم خان خلیل، حسن خان خلیل، نثار خان، شہزاد خان، افتخار خان اور مفتی مولانا سید ہادی شاہ بھی موجود تھے۔ ملاقات خوشگوار اور سنجیدہ ماحول میں منعقد ہوئی۔چیئرمین کو بتایا گیا کہ لوکل کونسل بورڈ آرڈر 2016 کے مطابق کمپنی کیڈر ملازمین کو مستقل حیثیت دی جانی چاہیے، مگر بدقسمتی سے ملازمین گزشتہ دس سالوں سے کنٹریکٹ کی غیر یقینی صورتحال میں کام کر رہے ہیں۔ ملازمین کی سالانہ انکریمنٹ بھی صحیح طریقے سے ادا نہیں ہو رہی ہے جو ان کا قانونی اور جائز حق ہے۔ سینیارٹی کی بنیاد پر ترقیاں پروموشن رُکی ہوئی ہیں جو کہ ملازمین کی پیشہ ورانہ ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن چکی ہیں۔ اوور ٹائم کی ادائیگی نہایت غیر تسلی بخش ہے اور اکثر مکمل نہیں دی جاتی۔معذور ملازمین کے لیے ڈس ایبل الاؤنس کی بندش سے متاثرہ افراد شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔کمپنی کیڈر ملازمین کی تاحال ورکرز ویلفیئر بورڈ میں رجسٹریشن نہیں کی گئی۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی سالانہ بونس و دیگر مالی مراعات کا فقدان ہے۔ کئی دیگر انتظامی، فلاحی اور مالیاتی مسائل جنہوں نے ملازمین کی معاشی حالت کو دگرگو کر رکھا ہے۔خادم کمپنی کیڈر ناصر خان افریدی نے تمام مسائل کے آئینی و قانونی حوالہ جات کے ساتھ مرتب "چارٹر آف ڈیمانڈز” کی مکمل فائل چیئرمین بورڈ کو پیش کی اور گزارش کی کہ ان دیرینہ اور بنیادی مطالبات کو فوری طور پر زیر غور لا کر ملازمین کو اُن کا حق دیا جائے۔چیئرمین بورڈ ملک شہاب حسین ایڈوکیٹ نے نہایت تحمل، توجہ اور ہمدردی کے ساتھ تمام نکات کو سنا اور کمپنی کیڈر کابینہ کو یقین دلایا کہ: "ان شاءاللہ کمپنی کیڈر ملازمین کے تمام جائز مطالبات کو جلد از جلد پورا کیا جائے گا اور کسی بھی ملازم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ملاقات کے اختتام پر کمپنی کیڈر کابینہ نے چیئرمین بورڈ کے تعاون، خلوص، مثبت رویے اور مسائل کے فوری حل کے وعدے پر دلی شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔

جواب دیں

Back to top button