لاہور( راجہ محبوب صابر)ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمٰی لاہور و ڈپٹی کمشنر رافعہ حیدر نے نقشہ فیس میں چار گنا تک اضافہ کی منظوری دے دی ہے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کی طرف سے رہائشی، کمرشل اور انڈسٹریل فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔جرمانے بھی بڑھا دیئے گئے ہیں۔شعبہ پلاننگ ایم سی ایل کی طرف سے نقشوں فیسوں، کمپوزیشن و پینلٹی اور این او سی فیس میں اضافہ کی درخواست کی گئی تھی جس کے لئے چیف آفیسر کی جانب سے نوٹیفکیشن منظوری کے لئے ایڈمنسٹریٹر کو بھجوایا گیا تھا

جس کی منظوری کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن کے لئے پنجاب پرنٹنگ پریس کو لیٹر بھجوا دیا گیا ہے۔غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام میں ناکامی اور مقررہ آمدن کے اہداف میں ریکارڈ خسارے کے بعد فیسوں میں اضافہ کر کے بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ایڈمنسٹریٹر رافعہ حیدر کی طرف سے منظور شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور نے رہائشی نقشہ فیس 4 روپے سکوائر فٹ سے بڑھا کر 15 روپے سکوائر فٹ کردی ہے۔منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں میں 15 روپے اور علاوہ میں 10 روپے سکوائر فٹ ہوگی۔کمرشل عمارتی نقشہ فیس 10 روپے سکوائر فٹ سے 40 روپے کر دی گئی ہے۔انڈسٹریل نقشہ فیس میں بھی 400فیصد اضافہ کردیا گیا ہے جو 5 روپے سکوائر فٹ سے بڑھا کر 20 روپے سکوائر فٹ کی گئی ہے۔بی ٹی ایس ٹاور فیس این او سی20 ہزار روپے ہوگی۔بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی،نقشہ منظوری کے بغیر تعمیر،غیر قانونی تہہ خانہ،پارکنگ ایریا پر تعمیر وغیرہ سمیت مختلف نوعیت کے قوانین سے انحراف پر جرمانہ جو 100 سے 150 روپے سکوائر فٹ تھا اب 150 سے 250 روپے فی سکوائر فٹ کردیا گیا ہے۔نئی فیسوں کا اطلاق رواں سال ہی یکم جولائی سے ہوگا۔بلدیہ عظمٰی لاہور کے مطابق فیسوں میں اضافہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022ء کے سیکشن 99،100،101اور پنجاب لوکل گورنمنٹ ٹیکسیشن رولز 2016 کے تحت اختیارات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔جس کے لئے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں۔متوقع آمدن لاہور کے ترقیاتی اور رفاعی کاموں پر خرچ ہوگی۔






