ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی اصلاحات کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا – ڈی جی ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ نے حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ترجمان ادارہ تحفظ ماحول پنجاب ساجد بشیر کے مطابق تعلیمی اداروں میں کچرا تلف کرنے کے پرانے طریقوں پر پابندی، رنگوں کے حساب سے کچرا الگ کرنے کا نیا نظام لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ سکولز، کالجز اور نجی اداروں کو ہدایت: 30 ستمبر 2025 تک پانچ رنگوں کے ڈبے نصب کریں ورنہ کارروائی ہوگی-

یکم اکتوبر سے ای پی اے کے فیلڈ آفیسران موقع پر جا کر سکولز کا معائنہ اور کوڑے کے ڈبوں کی موجودگی چیک کریں گے- کوڑا کرکٹ الگ رکھنے کے لیے ڈبوں کی تقسیم: پیلا ڈبہ کاغذ کے لیے، سبز ڈبہ شیشے کے لیے، خاکی ڈبہ نامیاتی کچرے کے لیے، سرخ ڈبہ دھات کے لیے، نارنجی ڈبہ پلاسٹک کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔کچرے کی باقاعدہ اٹھان کے لیے اداروں کو پنجاب ویسٹ مینجمنٹ ہیلپ لائن 1139 سے مدد لینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے طلبہ اور اساتذہ کو فضلہ الگ کرنے کی آگاہی دینا بھی لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ترجمان ساجد بشیر کے مطابق صرف وہی تعلیمی ادارے "اسمارٹ ویسٹ سرٹیفائیڈ” کہلائیں گے جو مکمل ضوابط پر عملدرآمد کریں گے۔سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے ادارے کو مرکزی دروازے پر اسمارٹ ویسٹ سرٹیفکیٹ نمایاں طور پر آویزاں کرنا ہوگا تاکہ والدین اور طلبہ دیکھ سکیں-ماہرین کے مطابق یہ اقدام ماحولیاتی آلودگی کم کرنے، کچرا ری سائیکلنگ بڑھانے اور قیمتی وسائل دوبارہ استعمال کے قابل بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔حکم کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی ادارے 5 لاکھ روپے تک جرمانے اور روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار روپے اضافی جرمانے کے مستحق ہوں گے۔






