وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر شہریوں کو مضرِ صحت پانی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں پنجاب کے 16 اضلاع میں فلٹریشن اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کیے جائیں گے۔اجلاس کی صدارت سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے کی، جس میں سی ای او پنجاب صاف پانی اتھارٹی نوید احمد نے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق آرسینک زدہ اور آلودہ زمینی پانی والے علاقوں میں فلٹریشن پلانٹس جبکہ دھارابی، میروال اور پھالینہ ڈیم پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے جائیں گے۔خوشاب، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان میں چار بوٹلنگ پلانٹس قائم کیے جائیں گے، جن کے ذریعے شہریوں کو 19 لیٹر پانی کی بوتلوں میں صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔ترجمان کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل 30 جون 2026ء تک کی جائے گی، جس سے تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔منصوبے کے آپریشنز اور مینجمنٹ کی منظوری صوبائی کابینہ دے چکی ہے۔ واٹر فلٹریشن پلانٹس سرکاری عمارتوں، اسکولوں، مساجد، مدارس اور تھانوں میں نصب کیے جائیں گے تاکہ پانی کی چوری کے واقعات میں کمی آئے۔فیلڈ آپریشنز کی خودکار مانیٹرنگ کے لیے جدید **SCADA System** بھی متعارف کروایا جائے گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر منصوبے کی تیز رفتار تکمیل یقینی بنانے کے لیے کام جاری ہے۔






