یوں تو پاکستان بھر میں مقامی حکومتیں بھولی بسری کہانی ہے غیر اہم اور سیاسی شو شا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔جب کوئی آئینی ترمیم میں کوئی دوسرا مقصد حاصل کرنا ہوتا ہے، تو مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ یاد آ جاتا ہے۔سبھی فورم پر یوں لگتا ہے کہ اب مقامی حکومتوں کی قسمت جاگ اٹھی ہے ،اور پھر گھپ اندھیرا۔اب گلگت بلتستان میں سیاسی انجیئرنگ مفقود تھی۔حکومت سازی کے لئے تو مقامی حکومتوں کا شوشا بھی چھوڑ دیا گیا ۔حالانکہ سابقہ مقامی حکومتیں1979 کے قانون کے تحت2004 ءمیں تشکیل پائی تھیں۔سال2012ءمیں عالمی ادارے کی سہولت کاری ایک نیا قانون بنایا گیا ۔مگر اسے نافذ العمل نہیں کیا گیا۔اب نہ تو نیا قانون بنایا گیا۔نہ نئی حلقہ بندیاں ہوئیں۔بلکہ نئے انتظامی یونٹ بھی بنائے گئے۔مگر مقامی حکومتیں گزشتہ چلی آ رہی ہیں۔اب نئی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مکمل ہو گئے ،نئی حکومت سازی ہو جائے گی۔مگر اس کا انتظار کئے بغیر مقامی حکومتوں کا انتخابی شیڈول سامنے آ گیا ۔اندیشہ ہے کہ نئی قانون ساز اسمبلی اور نئی حکومت مقامی حکومتوں کا سارا نظام ہی بدل دے، جیسا کہ اسلام آباد میں کیا ہے۔تو پھر اس انتخابی شیڈول کا کیا ہو گا۔واپس ہو جائے گا۔،دوسرا مسئلہ ہے کہ انتخابات کی ضرورت ہی کیا ہے ۔کونسلوں میں جو نئی حکومت آئے وہ نامزدگیاں کر کے حکومت بنا دے تو زیادہ بہتر ہے۔انتخابی عمل کے اخراجات کی بھی بچت ہو جائے گی۔بہر حال گزشتہ سسٹم کے تحت پانچ ڈسٹرکٹ کونسلیں تھیں جن میں57نشستیں تھیں۔اب اضلاع بڑھ گئے ہیں تو نشستیں بھی بڑھ جائیں گی۔پہلے 5میونسپل کمیٹیاں تھیں۔چند سال قبل2020ءمیں ہونے والی حلقہ بندیوں کے مطابق 2 میونسپل کاروپریشنیں،10 ضلع کونسلیں،25میونسپل کمیٹیاں،9ٹاﺅن،25تحصیل کونسلیں،244 شہری یونین کونسلیں اور302 ویلج کونسلیں بنائی گئی تھیں۔جن میں9205 نشستیں تھیں۔اب کتنی نشستوں کے لئے انتخابات ہونگے۔یہ الیکشن کمیشن کو پہلے واضح کرنا ہے۔یہ ساری حلقہ بندیاں پانچ سال قبل کی ہیں۔اب ووٹرز ۔کم آبادی اور انتظامی یونٹ میں رد بدل ہو چکا ہے۔اس لئے نہ صرف نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں۔بلکہ قانون پر بھی اسمبلی کو نظر ثانی کرنا چاہیے اور نئی حکومت کو اپنی پالیسی بھی وضع کرنا چاہیے۔
Read Next
21 گھنٹے ago
وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت اجلاس،صفائی پلان طلب،چیف آفیسرز عزاداروں کو ٹھنڈا پانی اور دیگرسہولیات یقینی بنائیں گے
2 دن ago
یونین آف جرنلسٹ ڈسکہ کے سالانہ انتخابات کی تقریبِ حلف برداری،وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت
4 دن ago
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے ہیڈ بمبانوالہ تا نندی پور 12.30 کلومیٹر طویل کارپٹ روڈ کی تعمیرِ نو کے منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا
5 دن ago
𝐄𝐯𝐢𝐝𝐞𝐧𝐜𝐞-𝐁𝐚𝐬𝐞𝐝 𝐔𝐫𝐛𝐚𝐧 𝐏𝐥𝐚𝐧𝐧𝐢𝐧𝐠 𝐑𝐞𝐚𝐜𝐡𝐞𝐬 𝐚 𝐍𝐞𝐰 𝐌𝐢𝐥𝐞𝐬𝐭𝐨𝐧𝐞 𝐰𝐢𝐭𝐡 𝐭𝐡𝐞 𝐕𝐢𝐨𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐃𝐞𝐭𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐒𝐲𝐬𝐭𝐞𝐦
6 دن ago
"ستھرا پنجاب” کے تحت لاہور سمیت پنجاب بھر میں محرم الحرام کے حوالے سے خصوصی صفائی پلان تشکیل دے دیا گیا
Related Articles
پنجاب میں کمرشل تعمیراتی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے نظام کا تجرباتی آغاز،وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے وی ڈی ایس کا افتتاح کیا
6 دن ago
عیدالاضحیٰ پر مثالی صفائی آپریشن کی کامیابی، وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا ڈسکہ میں شاندار استقبال
1 ہفتہ ago



