وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت روڈ سیکٹر کے فلیگ شپ منصوبوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سوات موٹروے فیز ٹو، ڈی آئی خان موٹروے اور دیر موٹروے کے منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔وزیرِ اعلیٰ سُہیل آفریدی نے سوات موٹروے فیز ٹو پر تعمیراتی کام جلد از جلد شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ صوبائی حکومت کا فلیگ شپ پراجیکٹ ہے، اس لیے تمام تکنیکی اور انتظامی مسائل بلا تاخیر حل کیے جائیں۔ 80 کلومیٹر طویل سوات موٹروے فیز ٹو چکدرہ انٹرچینج سے فتح پور تک تعمیر کی جا رہی ہے، جس میں 9 انٹرچینجز اور دریائے سوات پر مختلف مقامات پر 7 پل شامل ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ سُہیل آفریدی نے پشاور تا ڈی آئی خان موٹروے منصوبے کا بھی جلد سنگِ بنیاد رکھنے کا عندیہ دیا۔ 365 کلومیٹر طویل ڈی آئی خان موٹروے میں 19 انٹرچینجز اور 2 ٹنلز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ یہ منصوبہ اور سوات موٹروے فیز ٹو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیے جا رہے ہیں۔دیر موٹروے منصوبے کے حوالے سے اجلاس میں اصولی فیصلہ کیا گیا کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر صوبائی وسائل سے تعمیر کیا جائے گا۔ وزیرِ اعلیٰ سُہیل آفریدی نے عملی کام کے آغاز کے لیے تمام قانونی و انتظامی تقاضے تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دور دراز علاقوں کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے دستیاب وسائل کا مؤثر اور شفاف استعمال کر رہی ہے۔






