بلدیاتی اداروں سے وابستہ ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیاں یقینی بنانے کا واحد حل اکاؤنٹ فور ہے۔ صوبائی حکومت سے فوری عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ۔صوبہ بھر کے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز گھمبیر مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر کی اکثریتی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے ملازمین اور پنشنرز کئی کئی مہینوں سے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں سے محروم چلے آ رہےہیں۔ ان کے بچے اور خاندانوں سے وابستہ لوگ بھوک و افلاس اور فاکوں سے دوچار ہیں۔مالک مکان کرایہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کرایے کے مکانات خالی کروانے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔سکولوں والے ملازمین کے بچوں کو فیسوں کی عدم ادائیگی پر سکولز سے نکال رہے ہیں۔بچے تعلیم سے محروم کئے جا رہے ہیں۔ بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے کنکشن منقطع کئے جا رہے ہیں۔ دستکاری سکولز کی بندش، سروس سٹرکچر پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین ترقی کے مواقع سے محروم ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے لئے مستقل اکاؤنٹنگ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے بھی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی ناممکن ہے۔ پرانے فرسودہ اکاؤنٹنگ سسٹم پرسنل لیجر اکاؤنٹ کی وقتاً فوقتاً بندش اور فنڈز کی عدم دستیابی بھی ملازمین اور پنشنرز کی مشکلات بڑھانے میں اھم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کرونا وباء کے دوران بلدیاتی اداروں کے 120 سے زائد زرائع آمدن/ٹیکسز کا خاتمہ اور تاحال بحال نہ کرنا اور بلدیاتی اداروں کی مالی پوزیشن دن بدن کمزور ہونا بھی بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے بچوں کو فاکوں سے جات نہیں دلا پا رہی ہے۔ دوسری طرف لوکل کونسل بورڈ کے پروردہ ریجنل میونسپل آفیسرز کی طرف سے ماورائے اختیار تبدیلی کے احکامات بھی بلدیاتی ملازمین کی بے چینی کی اھم وجہ ہے۔ ان ساری انتقامی کاروائیوں کی وجہ سے ملازمین کی خوشحالی میں درد سر بنی ہوئی ہیں اور بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز مسلسل اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی عمل میں لا رہے ہیں اور کئی مہینوں سے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی سے محروم ہیں جب کہ حکومت کی طرف سے سروس سٹرکچر بننے کے باوجود اس پر عملدرآمد یقینی نہ بنانے سے بلدیاتی ملازمین سخت ذھنی اذیت کے شکار ہیں۔دوسری طرف انتقامی کاروائیوں اور ماورائے اختیار تبدیلیوں کے آرڈرز بھی ملازمین کی بے چینی میں اضافہ کا باعث ہیں۔ لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے عہدیداران نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی ، وزیر بلدیات و دیہی ترقی مینا خان آفریدی ، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ ، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی سردار ثاقب رضا اسلم، سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ وحید الرحمان خان سے پرزور مطالبہ کی ہے کہ بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لئے اکاؤنٹ فور کی فراہمی بلا تاخیر یقینی بنائی جائے۔ ختم شدہ ٹیکسز بحال کئے جائیں۔سروس سٹرکچر پر باقاعدہ عملدرآمد کروا کر ملازمین کی ترقی کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا جائے لوکل کونسل بورڈ اور آر ایم اوز انتقامی کاروائیوں کو چھوڑ کر بلدیاتی اداروں کے فنڈز کی مضبوطی اور ملازمین کی مشکلات میں کمی کے لئے کردار ادا کریں ۔انتقامی کاروائیاں بند کر کے ملازمین کے ماورائے اختیار تبدیلیوں کے احکام فی الفور واپس لئے جائیں اور بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی یقینی بناکر ملازمین کی مشکلات میں کمی لائی جائے اور ان کے بچوں کے مسائل کے خاتمہ کے بھرپور کردار ادا کریں۔دستکاری سکولز/انڈسٹریل سنٹرز بحال کئے جائیں۔
Read Next
15 گھنٹے ago
خیبرپختونخوا کے شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری!نادرا ای سہولت مراکز کے ذریعے زمین کے فرد کے اجراء کی منظوری
3 دن ago
وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا نمائندگان سے گفتگو!
4 دن ago
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس
6 دن ago
خیبرپختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کی گھر گھر گنتی اور جامع سروے کیا جائے گا،متعلقہ محکموں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
6 دن ago
بھامالاہری پور،سیٹھی ہاؤس پشاور،بریکوٹ سوات اور گور گھٹری پشاور یونیسکو کی عالمی ورثہ کی عارضی فہرست میں شامل
Related Articles
خیبر پختونخوا کے آئینی و مالیاتی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وفاق کی یکطرفہ کٹوتی ناقابلِ قبول ہے,وزیراعلٰی محمد سہیل آفریدی
6 دن ago
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سپین خاک،نوشہرہ میں پودا لگا کر میگا شجرکاری مہم کا افتتاح کردیا
7 دن ago



