عالمی بینک نے سندھ حکومت کی اصلاحاتی مہم اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہونے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اہم منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد جاری ہے، خصوصاً جام چاکرو میں کراچی کے سب سے بڑے لینڈ فل سائٹ کی تعمیر کو شہر کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کی جدید کاری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔یہ اظہارِ اطمینان 4.1 ارب ڈالر مالیت کے عالمی بینک کے تعاون سے جاری 14 منصوبوں کے اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کے دوران کیا گیا جس کا مشترکہ طور پر جائزہ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی سربراہی میں صوبائی ٹیم اور عالمی بینک حکام نے لیا۔ اب تک تقریباً 2.2 ارب ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں جو مختلف شعبوں میں مستحکم پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پراجیکٹ (ایس ڈبلیو ای ای پی) کے تحت جام چاکرو لینڈ فل ایک جدید سہولت کے طور پر ابھر رہا ہے جس میں 59 فیصد فنڈز استعمال ہو چکے ہیں۔ پہلے لینڈ فل سیل کے سول ورکس مکمل ہو چکے ہیں جبکہ سائٹ کو فعال بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ کچرا منتقلی کے اسٹیشنز پر بھی کام جاری ہے اور زیادہ تر اجزاء کی تکمیل 2026 تک متوقع ہے۔ حکام پرانے ڈمپ سائٹس کو ماحولیاتی اصولوں کے مطابق بند کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ کھلے عام کچرا پھینکنے کے طریقہ کار سے سائنسی بنیادوں پر فضلہ ٹھکانے لگانے کی جانب ایک بڑی تبدیلی ہے جس سے شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول میسر آئے گا۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں، عالمی بینک نے کراچی موبیلٹی پراجیکٹ کے تحت یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لیے مزید 157.7 ملین ڈالر کی منظوری دی ہے اور اس کی تکمیل کی مدت 2028 تک بڑھا دی گئی ہے۔ سینئر وزیر شرجیل میمن کے مطابق منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں اور ڈپو اور پلوں سمیت اہم انفراسٹرکچر پر پیش رفت جاری ہے جبکہ حکومت شہر میں جدید ماس ٹرانزٹ نظام کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹس (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) کے تحت بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جہاں پہلے مرحلے میں 77 فیصد فنڈز جاری ہو چکے ہیں۔ اولڈ پپری مین کی تکمیل ہو چکی ہے جبکہ دھابیجی رائزنگ مین تکمیل کے قریب ہے۔ کسٹمر سروس سینٹرز اور پانی کے معیار میں بہتری کے اقدامات جاری ہیں جبکہ اصلاحات اور ماسٹر پلاننگ اسٹڈیز 2026 کے وسط تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔منصوبے کے دوسرے مرحلے میں طویل المدتی پانی کی فراہمی، بشمول کے-فور توسیع، ابتدائی مراحل میں ہے جہاں اراضی کے معاوضے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر کام جاری ہے۔ عالمی بینک نے پائیداری کے لیے خریداری کے عمل اور ادارہ جاتی اصلاحات کو تیز کرنے پر زور دیا۔صحت کے شعبے میں، سندھ انٹیگریٹڈ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پراجیکٹ کے تحت پیش رفت جاری ہے۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے مطابق ایمبولینسز فعال ہیں، ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز متعارف کرائے جا رہے ہیں اور طبی سہولیات کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی تربیت مکمل ہونے کے قریب ہے جبکہ سروسز کو اضلاع تک توسیع دی جا رہی ہے۔تعلیم کے شعبے میں سندھ ارلی لرننگ انہانسمنٹ پراجیکٹ کے تحت پیش رفت جاری ہے۔ وزیر تعلیم سید سردار شاہ کے مطابق طلبہ کی حاضری کا نیا مانیٹرنگ نظام صوبے بھر میں توسیع پا رہا ہے جبکہ اسکولوں کی تعمیر اور بحالی جاری ہے اور متعدد منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔زرعی شعبے میں سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو کے مطابق قانون سازی اور انفراسٹرکچر اقدامات کے ساتھ ساتھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے پروگرام بھی جاری ہیں۔ وزیر زراعت محمد بخش خان مہر نے بھی زرعی منصوبوں پر بریفنگ دی۔سندھ حکومت کے وزراء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ بروقت تکمیل اور بہتر سروس ڈیلیوری یقینی بنائی جا سکے۔ عالمی بینک نے پیش رفت کو سراہتے ہوئے سندھ کی ترقیاتی حکمت عملی کے لیے اپنے تعاون کو جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی، جس کا مقصد شہری انفراسٹرکچر، عوامی خدمات اور مجموعی معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
Read Next
10 گھنٹے ago
ملیر ہالٹ تا گھگھر پھاٹک روڈ کو جدید اور خوبصورت گیٹ وے کوریڈور بنایا جائے گا،چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ
1 دن ago
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت محکمہ بلدیات سندھ کا اہم اجلاس
6 دن ago
*کراچی کےلیے خوشخبری،10 ارب روپے کے 10 بڑے انفرا اسٹرکچر منصوبے تیار*
1 ہفتہ ago
میئر حیدرآباد کاشف علی شورو کی کاوشوں سے بلدیہ اعلیٰ کی پرانی فائر باؤزر کو نئی زندگی مل گئی
1 ہفتہ ago
*وزیراعلیٰ سندھ سے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی الوداعی ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال*
Related Articles
مراد علی شاہ کا حیدرآباد میں شہید محترمہ بےنظیر بھٹو فلائی اوور کے التواء کا نوٹس،جولائی 2026 کے پہلے ہفتے تک مکمل کرنے کا حکم
1 ہفتہ ago
ایس بی سی اے نے تعمیراتی اجازت ناموں کی چاروں کیٹیگریز کی آٹومیشن کے لیے ایک ماہ کی مدت مقرر کردی
1 ہفتہ ago




