وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں ہنگامی خدمات کی تنظیمِ نو اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع منصوبے کا جائزہ لے کر منظوری دے دی جس کا مقصد ایک مربوط، مؤثر اور تیز رفتار نظام کو ایک واحد کمان کے تحت قائم کرنا ہے۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، سینئر حکام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جن میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، ڈی جی ایس بی سی اے مزمل ہالیپوٹو، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ اور دیگر افسران شامل تھے۔بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ یکم اپریل تک صوبہ بھر میں 122 ٹیموں کے ذریعے فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا جس کے تحت 3,340 عمارتوں کا معائنہ کیا گیا جو کہ ابتدائی ہدف 2,368 سے زائد ہے۔ آڈٹ کے نتائج کے مطابق حفاظتی معیار پر پورا اترنے والی عمارتوں کی تعداد بڑھ کر 1,328 (43 فیصد) ہوگئی جبکہ زیادہ خطرناک عمارتوں کی شرح فروری میں 33 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی۔وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ عملدرآمد کے دوران متعدد خطرناک عمارتوں کو سیل کیا گیا اور فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے 3,000 سے زائد نوٹسز جاری کیے گئے۔عوامی تحفظ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انسانی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ہنگامی ردعمل کے نظام میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد، باقاعدہ معائنہ اور خطرناک عمارتوں میں فوری اصلاحی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حفاظتی معیار کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں فائر اور ایمرجنسی سروسز کی تنظیمِ نو اور مضبوطی کے لیے 30.8 ارب روپے سے زائد کے مالی منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اس منصوبے کے تحت خصوصی گاڑیوں اور آلات کی خریداری کے لیے وسائل مختص کیے گئے ہیں، جن میں 100 فائر ٹینڈرز، اسنارکلز، ایریل لیڈرز، ڈرونز، فائر بائیکس اور آل ٹیرین وہیکلز شامل ہیں جبکہ جدید ریسکیو آلات جیسے تھرمل امیجنگ کیمرے، بریتھنگ اپریٹس اور لائف ڈیٹیکشن سسٹمز بھی حاصل کیے جائیں گے۔منصوبے میں نئے فائر اسٹیشنز کی تعمیر اور ریسکیو 1122 اکیڈمی کے قیام کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ تربیت اور ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ کو خریداری کے دو طریقہ کار سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا، جن میں حکومت سے حکومت کے درمیان معاہدے اور بین الاقوامی مسابقتی بولی شامل ہیں، جبکہ حتمی فیصلہ متعلقہ وفاقی حکام سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے ساختی اصلاحات کے لیے اپنی سفارشات پیش کرتے ہوئے سندھ میں ایمرجنسی سروسز کے لیے ایک خودمختار اور متحدہ اتھارٹی کے قیام کی تجویز دی۔ مجوزہ ماڈل کے تحت ریسکیو 1122 اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اس نئی اتھارٹی کے آپریشنل ونگز کے طور پر کام کریں گے۔مجوزہ ڈھانچے کے تحت مقامی حکومتوں کی فائر سروسز کو آپریشنل سطح پر ریسکیو 1122 کے ساتھ ضم کیا جائے گا، جبکہ خریداری، تربیت اور پالیسی سے متعلق امور کا مرکزی کنٹرول ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 کے پاس ہوگا۔کمیٹی نے سول ڈیفنس کے افعال (جنگی ذمہ داریوں کے علاوہ)، ایمرجنسی ہیلتھ سروسز اور معاوضہ جاتی نظام کو بھی ایک ہی نظام کے تحت لانے کی سفارش کی تاکہ آفات کے دوران ردعمل اور رابطہ کاری کو بہتر بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے ان سفارشات کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ نئے نظام کو قانونی شکل دینے کے لیے جامع قانونی فریم ورک تیار کیا جائے۔ انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دی جو متعلقہ قانون سازی کا مسودہ تیار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبہ ایک جدید، مربوط اور پیشہ ورانہ طور پر منظم ایمرجنسی نظام کی جانب بڑھ رہا ہے جو ہر قسم کی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ریسکیو 1122 کو بعد از تعمیر فائر سیفٹی پر عملدرآمد، لائسنسنگ، انسپیکشن اور آڈٹ کے اختیارات دیے جائیں۔صلاحیت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے جدید تقاضوں اور مقامی مہارت کے مطابق تربیت یافتہ عملہ تیار کرنے کے لیے جدید ترین اکیڈمی کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اصلاحات نہ صرف ردعمل کے وقت کو بہتر بنائیں گی بلکہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیں گی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گی، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایک محفوظ اور مستحکم سندھ کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
Read Next
14 منٹس ago
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کا کراچی کے مختلف علاقوں کا ہنگامی دورہ، بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ
23 منٹس ago
*سندھ کی ترقیاتی حکمت عملی میں تعاون جاری رکھیں گے، عالمی بینک حکام کی یقین دہانی*
1 دن ago
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا اعلیٰ سطحی اجلاس
1 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت سانحہ گل پلازہ پر اہم اجلاس،ڈی جی ایس بی سی اے کو مارکیٹ کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت
2 دن ago
*سندھ کابینہ اجلاس میں بڑے اصلاحاتی اقدامات، ترقیاتی منصوبے اور گندم خریداری کی پالیسی کی منظوری دے دی*
Related Articles
عوام کو دہلیز پر سہولتوں کی فراہمی کے لئے گراس روٹ کے منتخب نمائندوں کو بااختیار بنانا ہوگا،وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ
2 دن ago
چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ کی زیر صدارت ٹیکس سے متعلق میٹنگ، ٹیکس کلیکشن کے امور کا تفصیلی جائزہ
3 دن ago
وزیر بلدیات سندھ سیدناصر حسین شاہ کی زیر صدارت کمشنر آفس میں مخدوش عمارتوں کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس
3 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی محتسب اعلیٰ کا صوبے میں عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کو مضبوط بنانے پر اتفاق*
6 دن ago


