سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لئے صرف سات فیصد مختص کرنا غریب ملازمین ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

صوبائی بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لئے صرف سات فیصد مختص کرنا غریب ملازمین اور پنشنرز کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔ممبران اسمبلی اپنی تنخواہوں اور مراعات میں بیک جنبش بے تحاشا اضافہ کرتے ہیں اور غریب سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کے لئے خزانہ خالی ہوتا ہے۔جب کہ بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے بچے پہلے ہی فاکوں سے دوچار ہیں گزشتہ کئی کئی مہینوں کی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کےلئے درد سر بنی ہوئی ہے۔تحریک انصاف کی حکومت صوبہ بھر کے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز سے انصاف کرنے سے قاصر ہے۔ بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز صوبائی حکومت سے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی اکاونٹ فور سے یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہیں مگر صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں سے وابستہ ملازمین اور پنشنرز کو مایوسی کے سوا کچھ بھی نہیں دیا۔ان خیالات کا اظہار لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی، چئرمین محبوب اللہ ، صدر حاجی انور کمال خان اور جنرل سیکریٹری سلیمان خان ہوتی نے مجوزہ صوبائی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ، مشیر خزانہ مذمل اسلم، وزیر بلدیات و دیہی ترقی مینا خان آفریدی اور تمام معزز ممبران صوبائی اسمبلی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ بجٹ میں بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لئے اکاؤنٹ فور کی منظوری شامل کرائی جا کر بلدیاتی ملازمین، پنشنرز اور تین چار سالوں سے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے بچوں کو فاکوں سے نجات دلائی جائے۔

جواب دیں

Back to top button