پاکستان کے نوجوان کاکروچ ہیں نہ جین زی بلکہ یہ تو اقبال کے شاہین ہیں،پاکستان کا نوجوان کل بھی صورت فولاد تھا اور آج بھی ہے،یہی نوجوان ملک کا مستقبل ہیں،پاکستان مسلم نیٹو کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوان اقبال کمپلیکس کے زیراہتمام اور نمل لاہور کے اشتراک سے یوم آزادی اور مکہ دفاعی معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایڈمنسٹریٹر ایوان اقبال انجم وحید کی میزبانی میں ہونے والی اس تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان جبکہ سینئر صحافی سلمان غنی،صدر ایکس سروس مین بریگیڈئیر(ر) جاوید احمد،آر ڈی نمل بریگیڈئیر(ر) پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف اقبال ،چیئرپرسن شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر عائشہ اشفاق نے بھی خطاب کیا۔ وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے تقریب کے دوران نوجوانوں کا جوش و ولولہ دیکھتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا زندہ قومیں اپنے آزادی کے ایام اسی طرح زندہ دلی سے مناتی ہیں۔
انہوں نے کہا پاکستان کا نوجوان کل بھی صورت فولاد تھا اور آج بھی ہے،یہی نوجوان ملک کا مستقبل ہیں،ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو بھولنا نہیں چاہئے،ہمیں 79 برس میں دیکھنا چاہئے کہ ہم نے اس دوران کیا کھویا کیا پایا،میاں نواز شریف نے بھاری مراعات ٹھکرا کر ایٹمی دھماکے کئے۔وزیر خزانہ نے مسلم لیگ ن کی حکومتوں کے فلاحی اور اقتصادی کارناموں کا بھی تذکرہ کیا جن میں موٹرویز،بجلی کے کارخانے،آپٹیکل فائبرز اور دیگر شامل ہیں۔انہوں نے نے کہا ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے ملک کو دہشتگردی سے پاک کیا،2018 کے بعد آنے والی حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ پن تک پہنچا دیا،اس کے بعد پھر میاں شہباز شریف نے ملک کو معاشی مسائل سے نکالا اور اسے دیوالیہ ہونے سے بچایا۔انہوں نے مزید کہا بھارت ہمیشہ شب خون مارتا ہے لیکن اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پاکستان فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری قیادت میں اسے شکست فاش کرے گا،وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ،ایران جنگ رکوانے کیلئے کوششیں نہ کرتے تو دنیا تیسری جنگ عظیم میں مبتلا ہو جاتی۔انہوں نے کہا پاکستان کا سب سے بڑا دوست سعودی عرب اور اس کے بعد ترکیہ ہیں جبکہ غیر مسلم ممالک میں چین ہمارا آہنی دوست ہے۔انہوں نے مزید کہا مکہ معاہدہ صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ امن کا پیغام ہے،جہاں مان نہیں ہو گا وہاں سرمایہ کاری نہیں آئے گی،پاکستان کا مستقبل بڑے شہروں نہیں نوجوانوں سے وابستہ ہے ،ہمیں نوجوانوں کو جاب سیکر نہیں جاب کری ایٹر بنانا ہو گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر دفاعی تعاون معاہدہ ہو سکتا ہے تو تعلیم،ٹیکنالوجی ،معیشت اور دیگر شعبوں میں کیوں نہیں،نوجوانو پاکستان آپ سے محبت اور محنت مانگتا ہے،آپ کسی بھی شعبے میں ہوں اپنی خدمات خلوص نیت سے سرانجام دیں،ہمیں آج یہ عہد کرنا ہوگا کہ پاکستان کو ہر لحاظ سے مضبوط بنائیں گے۔سینئر صحافی سلمان غنی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کے نوجوان کاکروچ ہیں اور نہ ہی جین زی ،یہ تو اقبال کے شاہین ہیں،امریکی جو پاکستان بھارت جنگ میں نیوٹرل بننا چاہتا تھا ،جب بھارت کی شکست دیکھی تو صلح کیلئے آن دھمکا،وہ مودی جسے رافیل پر ناز تھا،اس کا غرور خاک میں مل گیا،اسی طرح وہ امریکہ جو ایران کی تہذیب ختم کرنا چاہتا تھا،اب اس دلدل سے نکلنے کیلئے پاکستان کی منتیں کر رہا ہے۔انہوں نے کہا مکہ معاہدہ میں مرکزی اور کلیدی کردار پاکستان کا ہے،اس اتحاد میں قطر،کویت اور بحرین سمیت دیگر ممالک بھی شامل ہوں گے،پاکستان اگر دفاع کی ذمہ داری لیتا ہے تو خلیجی ممالک کو بھی ہماری معیشت درست کرنا ہو گی،ہمیں سیاسی اختلافات بھلا کر پاکستانیت پیدا کرنا ہو گی،اقبال کے شاہین بننا ہو گا،جب تک تعلیم کیلئے مناسب بجٹ نہیں ہو گا،نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے وسائل نہیں ملیں گے،حکمرانوں کو اپنی عیاشیوں پر کٹ لگانا پڑے گا،پاکستان کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنے چاہئیں۔ صدر ایکس سروس مین بریگیڈئیر(ر) جاوید احمدنے اپنے خطاب میں کہا ملکی تاریخ میں یاسیت کے مواقع آئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مدد فرمائی جس کی ماضی قریب میں مثال معرکہ حق کی ہے،مکہ معاہدہ کرانا پاکستان کی ذمہ داری بھی تھی کیونکہ پاکستان دفاعی لحاظ سے اس قابل ہے،یہ بھی اللہ کا تحفہ ہے کہ اس نے اس کامیابی کا ہار بھی پاکستان کے گلے میں ڈال دیا ہے۔ڈاکٹر عائشہ اشفاق نے کہا اس بار جشن آزادی منفرد نوعیت کا ہے،کیونکہ چند روز قبل مکہ معاہدہ نے اتحاد امت کی بناید رکھ دی،دوسری طرف امریکہ ایران جنگ میں ثالثی کا کردار بھی ایک سنگ میل ہے،پاکستان نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ وہ امن کا خواہاں اور بڑی طاقتوں کے ساتھ جہاں برابری کی سطح پر کام کر سکتا ہے وہاں دنیا کے تنازعات کے خاتمے میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے،پاکستان مسلم نیٹو کی بنیاد رکھ رہا اور مستقبل میں مسلم ممالک کا اتحاد ممکن ہے۔ بریگیڈئیر(ر) پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا آزادی کی اہمیت اور تقاضوں پر بات کی جائے تو پاکستان نے ہم کو سب کچھ دیا ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم نے پاکستان کو کیا دیا۔تقریب میں ابتدائیہ کلمات ایڈمنسٹریٹر ایوان اقبال انجم وحید ، نقابت کے فرائض مس جنت الفردوس نے ادا کئے جبکہ تلاوت قرآن پاک کی سعادت قاری سعد افضل اور نعت منائل سعید نے پیش کی۔تقریب کے موقع پر ایوان اقبال کا کانفرنس ہال طلبہ و طالبات،اساتذہ کرام دیگر لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔





