ناتھا خان روڈ اور گلستانِ جوہر کے درمیان اہم رابطہ سڑک کا منصوبہ آخری مراحل میں داخل

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت ناتھا خان روڈ، شاہراہِ فیصل اور گلستانِ جوہر کے درمیان متبادل راستوں کی فراہمی کے اہم منصوبے پر کام آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ منصوبے کا مقصد شہر کی مصروف ترین شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور شہریوں کے لیے آمدورفت کو مزید آسان بنانا ہے، منصوبے کے تحت دو اہم رابطہ سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جو ناتھا خان روڈ تک متبادل رسائی فراہم کرنے کے ساتھ شاہراہِ فیصل اور گلستانِ جوہر کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کریں گی۔ یہ منصوبہ کراچی کے سڑکوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے، اہم شہری راہداریوں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے اور شہریوں کو متبادل راستے فراہم کرکے سفر کے دورانیے کو کم کرنے کے لیے کے ایم سی کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے زیرِ تعمیر سڑک کے منصوبے کا دورہ کیا اور جاری ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر میونسپل کمشنر ابرار جعفر نے میئر کراچی کو منصوبے کے دائرہ کار، فنی خصوصیات اور جاری کام کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی۔ چکور نالہ کے متوازی تعمیر کی جانے والی سڑک کی مجموعی لمبائی تقریباً 2.4 کلومیٹر جبکہ چوڑائی 38 سے 40 فٹ کے درمیان ہے۔ اس حصے کے اہم کاموں میں دونوں اطراف پتھر کی پچنگ اور پتھر کی دیواروں کی تعمیر، روشنی کے کھمبوں کی تنصیب، تقریباً 30 رننگ فٹ لمبے پل نما راستے کی تعمیر اور تقریباً ایک ہزار رننگ فٹ آر سی سی دیوار کی تعمیر شامل ہے۔ منصوبے کے دوسرے حصے میں ناتھا خان پل کے متوازی تعمیر کی جانے والی سڑک کی مجموعی لمبائی تقریباً 800 میٹر اور چوڑائی 36 فٹ ہے۔ اس حصے کے اہم کاموں میں دونوں اطراف کرب بلاکس کی تنصیب، تقریباً ایک ہزار رننگ فٹ حفاظتی دیوار کی تعمیر، نو خانوں پر مشتمل باکس کلورٹ کی تعمیر اور تقریباً 150 رننگ فٹ طویل پل کی تعمیر شامل ہے۔ دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی تیزی سے پھیل رہا ہے اور شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے نئی اور متبادل رابطہ سڑکوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی ناتھا خان روڈ کی تعمیر نو اور ترقی کے اپنے وعدے پر نہ صرف کام کر رہی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گلستانِ جوہر اور شاہراہِ فیصل کے درمیان متبادل رابطہ بھی قائم کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملے اور انہیں اضافی راستے میسر آسکیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی تیزی سے ترقی اور توسیع پذیر ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ موجودہ سڑکوں کے نیٹ ورک پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ متبادل راستے تیزی سے تیار کیے جائیں تاکہ شہری زیادہ سہولت کے ساتھ شہر میں سفر کرسکیں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ کم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ گلستانِ جوہر اور شاہراہِ فیصل کے درمیان تعمیر کی جانے والی رابطہ سڑک اس حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ تقریباً 2.4 کلومیٹر طویل یہ راستہ اور چکور نالہ کے اطراف ہونے والے متعلقہ ترقیاتی کام متبادل رابطہ فراہم کریں گے اور اردگرد کے علاقوں میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے میں مدد دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد محض ایک اور سڑک تعمیر کرنا نہیں بلکہ کراچی کے لیے ایک بہتر اور مربوط سڑکوں کا نیٹ ورک تشکیل دینا، شہریوں کو متبادل راستے فراہم کرنا اور ان کے منزل تک پہنچنے میں صرف ہونے والے وقت کو کم کرنا ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی شہر کے مختلف علاقوں میں بیک وقت ترقیاتی کام انجام دے رہی ہے اور جاری منصوبے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم بلدیاتی حکومت کے شہری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور کراچی کے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مختلف ٹاؤنز اور علاقوں میں بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کے تحت سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے، نکاسی آب، روشنی، سفری رابطوں اور دیگر بلدیاتی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ہر ٹاؤن اور ہر علاقے میں ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ترقیاتی کام شہر کے کسی ایک مخصوص حصے تک محدود نہ رہیں بلکہ مختلف علاقوں کی ضروریات کے مطابق وہاں بھی ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ ترقیاتی پروگرام میں کراچی کے صنعتی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے منصوبے بھی شامل ہیں، جہاں سندھ حکومت کے تعاون سے 9.5 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کے ذریعے انفراسٹرکچر کی بہتری کے کام کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کی رفتار برقرار رکھی جائے گی اور انہیں یقین ہے کہ اس وقت زیرِ تکمیل متعدد بڑے منصوبے سال کے اختتام تک مکمل کرلیے جائیں گے۔ میئر کراچی نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ اس وقت جاری بڑے ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کرلیے جائیں گے۔ ہم ان منصوبوں کی پیش رفت کی خود بھی نگرانی جاری رکھیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ترقیاتی کام مطلوبہ رفتار سے جاری رہیں۔ مئیر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کے معیار کو برقرار رکھا جائے، منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے اور انجینئرنگ کے معیار، سڑکوں کی حفاظت، نکاسی آب اور اسٹریٹ لائٹس پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو شہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے طویل المدتی اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ شہر کی آبادی اور معاشی سرگرمیوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر نئی سڑکیں اور متبادل راستے شہریوں کی آمدورفت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ میئر کراچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سڑکوں کی تعمیر و ترقی کے ساتھ معاون بنیادی ڈھانچہ بھی فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ نئے تعمیر ہونے والے راستے شہریوں کو دیرپا فوائد فراہم کرسکیں۔ منصوبہ مکمل ہونے اور نئے راستے عوام کے لیے کھولے جانے کے بعد توقع ہے کہ اردگرد کے علاقوں میں رابطہ بہتر ہوگا، ٹریفک کی روانی میں سہولت پیدا ہوگی اور شہر کی موجودہ اہم شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی۔ میئر کراچی کے ہمراہ کے ایم سی افسران نے انہیں تعمیراتی کاموں کی پیش رفت اور منصوبے کے باقی ماندہ کاموں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ میئر کراچی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے تمام باقی ماندہ کام مؤثر انداز میں اور منظور شدہ فنی وضاحتوں کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مستقبل کے لیے متبادل رابطہ سڑکوں کی تعمیر ناگزیر ہے اور کے ایم سی شہریوں کے لیے بہتر رابطہ، سفر کے وقت میں کمی اور بلدیاتی سہولیات کی فراہمی کے مقصد سے بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی منصوبے جاری رکھے گی۔

جواب دیں

Back to top button