اندرون لاہور میں بڑے پیمانے پر جعلی رجسٹریوں پر کمرشل تعمیرات کا انکشاف ہوا ہے۔ان میں سرکاری اراضی، سڑکیں اور گلیاں بھی شامل ہیں۔بلدیہ عظمٰی لاہور نے تاریخی بنگلہ ایوب شاہ کی عمارت اور اراضی پر والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی ملی بھگت سے غیر قانونی کمرشل تعمیرات کا نوٹس لیتے ہوئے جعلی رجسٹریوں کو خارج کروا دیا ہے جبکہ تعمیر کی گئے پلازہ اور مارکیٹ کو اوپن آکشن میں کرائے پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تاریخی بنگلہ ایوب شاہ اندرون کشمیری گیٹ کا کنٹرول والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے 18 اپریل 2016 کو مرمت و تزئین و آرائش کے لئے ایم سی ایل سے مانگا تھا جو 15 جون 2016 کو اس کے حوالے کر دیا گیا لیکن والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ٹاؤن پلاننگ ونگ سے قبضہ مافیا کے حوالے کر کے تاریخی ورثے پر غیر قانونی کمرشل تعمیرات کروا دیں۔جس کا راستہ باقی رہ گیا اس پر اب پلازہ تعمیر کروایا جا رہا ہے۔ایم سی ایل قبضہ واپس لینے اور والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی قبضہ مافیا کو مکمل کنٹرول دینے کے لئے سرگرم ہے۔بنگلہ ایوب شاہ تاریخی ورثہ کی حفاظت کے لئے میاں حمزہ شہباز شریف کی طرف سے ڈھائی کروڑ روپے کے فنڈز بھی منظور کروائے گئے تھے جس پر پہلی مرتبہ پراپرٹی نمبر 2491 اور 2492 ایف قبضہ کی کوشش ایم سی ایل اور ضلعی انتظامیہ نے ناکام بنا دی لیکن تاریخی ورثہ کی حفاظت کرنے والی اتھارٹی کے افسران قبضہ گروپ کے ساتھ ہیں۔اندرون لاہور شاہ عالم سکیم میں بھی سڑکوں اور گلیوں سمیت سرکاری اراضی کو شامل کر کے غیر قانونی کمرشل تعمیرات کروائی جا رہی ہیں۔

ایف وارڈ میں سب سے زیادہ غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں۔خطرناک صورتحال اندرون لاہور کے داخلی دروازوں کے حوالے سے ہے جن کے قریب ہر قسم کی تعمیرات پر پابندی ہے لیکن کشمیری گیٹ، شیراں والا گیٹ، مستی گیٹ،ٹیکسالی گیٹ ،موچی گیٹ اور دیگر کے ساتھ نوٹیفائی ڈکلیئر فریز ایریا ایریا میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات کروا دی گئی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کا اربن پلاننگ و ٹاؤن پلاننگ ونگ قدیم لاہور کو محفوظ بنانے کی بجائے نیا لاہور تعمیر کروانے کے لئے سرگرم ہے۔سابق سٹی گورنمنٹ، راوی زون ، ایم سی ایل اور ایل ڈی اے کی طرف سے اپنے اپنے کنٹرولڈ ایریا میں ماضی میں جن خطرناک عمارتوں کو نوٹسیز جاری کئے جاتے رہے ۔والڈ سٹی اتھارٹی نے انھیں مرمت کرنے اور محفوظ بنانے کی آڑ میں خالی کروا کر پلازہ مافیا کے حوالے کر دیا اور غیر قانونی کمرشل تعمیرات کروا دیں جن سے سرکاری خزانے کو کنورژن اور کمرشلائزیشن کی مد میں اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ایسی متعدد کی رجسٹریاں بھی جعلی ہیں۔ان میں ٹرسٹ کی اراضی بھی شامل ہیں۔تعلیم ،صحت ،کمیونٹی کے لئے وقف اراضی اس میں شامل ہے۔اندرون لاہور کی تاریخی فصیل بھی اس سے محفوظ نہیں رہی جس کا بڑا حصہ بھی غیر قانونی تعمیرات کی نذر ہو گیا ہے۔والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی اپنے بلڈنگ بائی لاز کے مطابق 10 مرلہ سے کم اراضی پر بسیمنٹ کی اجازت نہیں لیکن ڈبل بسیمنٹ بنوائی جا رہی ہیں۔چار منزلہ پلازوں کی بجائے 8 سے 13 منزلہ غیر قانونی تعمیرات کروائی جا رہی ہیں۔بلدیہ عظمٰی لاہور کے مطابق بنگلہ ایوب شاہ کے بعد دیگر سرکاری اراضی کی جعلی رجسٹریوں کا خارج کروا کر قبضہ حاصل کیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کامران لشاری نے تاریخی بنگلہ ایوب شاہ پر اور اندرون لاہور جاری غیر قانونی تعمیرات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ایم سی ایل شعبہ اسٹیٹ کے مطابق سرکاری اراضی پر تعمیرات کا کنٹرول حاصل کر کے اوپن آکشن میں کرائے پر دی جائیں گی۔اندرون کشمیری گیٹ ایم سی ایل کے سرکاری اراضی پر مزید قبضہ کے حوالے سے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی سے رپورٹ منگوائی جائے گی۔






