*سندھ میں ماحولیاتی گورننس اور پائیداری کے چیلنجز پر سیپا کے زیر اہتمام سیمینار*

سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا)، محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں "سندھ میں ماحولیاتی گورننس اور پائیداری کے چیلنجز” کے عنوان سے ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں معزز مہمانوں، ممتاز ماہرین، صنعتکاروں، سندھ حکومت کے مختلف محکموں کے سیکریٹریز، سول سوسائٹی کے نمائندوں، اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری شخصیات نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ، کئی معزز شرکاء زوم کے ذریعے بھی اس سیمینار میں شریک ہوئے۔

سیمینار کا مقصد سندھ میں درپیش ماحولیاتی چیلنجز پر تبادلہ خیال کرنا اور ان کے پائیدار حل کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی مشیرِ وزیراعلیٰ سندھ برائے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی، جناب دوست محمد رحیمون نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ماحولیاتی گورننس کو مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ماحولیاتی ضوابط کے مؤثر نفاذ، پالیسی اقدامات، اور عوامی آگاہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پلاسٹک ویسٹ، ٹھوس فضلہ مینجمنٹ، سمندری آلودگی، اور صنعتی فضلے کے مسائل کے حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ کئی علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح "غیر صحت بخش” سے "انتہائی غیر صحت بخش” کی حد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ پانی کی کوالٹی بھی اکثر جگہوں پر انسانی استعمال کے لیے غیر موزوں پائی گئی ہے۔ انہوں نے صنعتی اداروں پر زور دیا کہ وہ ماحول دوست پالیسیوں کو اپنائیں اور آلودگی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔

سیپا کے ڈائریکٹر جنرل نے کلیدی خطاب پیش کرتے ہوئے ماحولیاتی سروے کے نتائج شرکاء کے سامنے رکھے، جس کے مطابق سندھ میں ہوا اور پانی کی آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ سیکریٹری، محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی، جناب آغا شاہ نواز نے ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری کے لیے حکومتِ سندھ کی کاوشوں کو اجاگر کیا۔ سیمینار میں گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ سندھ، جو کہ قدرتی وسائل اور متنوع ماحولیاتی نظام سے مالا مال ہے، کو آلودگی، شور کی زیادتی، صنعتی اخراجات، اور نامناسب فضلہ مینجمنٹ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ ماحولیاتی استحکام صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام متعلقہ فریقین بشمول صنعتوں، شہریوں، اور سول سوسائٹی کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتِ سندھ مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں ماحولیاتی مانیٹرنگ سسٹمز کو مضبوط بنانا، فضلہ مینجمنٹ کی بہتری، ساحلی علاقوں کا تحفظ، اور پائیدار شہری منصوبہ بندی کے فروغ کے لیے نئی پالیسیاں متعارف کروانا شامل ہیں۔ شرکاء نے ماحول دوست طرزِ عمل اپنانے، ماحولیاتی قوانین کی پاسداری، اور پائیدار ترقی کے لیے جدید اور مؤثر حکمت عملیوں کو اپنانے پر اتفاق کیا۔سیمینار کے اختتام پر معزز مقررین اور ماحولیاتی ماہرین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں۔ تقریب نے ایک تعمیری مکالمے کی راہ ہموار کی، جس میں حکومت، صنعت، اور سول سوسائٹی کے اشتراک کو اجاگر کیا گیا تاکہ سندھ کو ایک صاف، سرسبز اور پائیدار مستقبل کی طرف گامزن کیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button