کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ میں پانی کی قلت اور اس کے تدارک کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں چیف انجینئر واسا،ایریگیشن اور پی آر سی کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں شہر میں پانی کی سنگین صورتحال، عوامی مشکلات اور ان کے حل کے لیے فوری اور طویل المدتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ میں زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک گر چکا ہے جبکہ غیر ضروری استعمال کی وجہ سے مسائل مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی اور ایک سے زائد پانی کنکشن فوری طور پر منقطع کیے جائیں، کار واشنگ سینٹرز، مال مویشی فارم، چمڑا و ماربل فیکٹریز کو ٹریٹڈ پانی کے استعمال کا پابند بنایا جائے اور پرائیویٹ واٹر سپلائی کے کاروبار کو بھی قانون کے دائرے میں لا کر مکمل مانیٹرنگ کی جائے۔واٹر سپلائی کے حوالے سے مربوط نظام جس میں واٹر میٹرنگ کو لاگو کیا جائے،کاریزات کو بحال کیا جائے اس کے علاوہ سرکاری عمارتوں پر بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے "روف ٹاپ ہارویسٹنگ سسٹم” نصب کرنے، غیر قانونی ٹیوب ویلز سیل کرنے اور زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے لیے ریچارج پوائنٹس قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں پانی کی قلت خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے جس کے تدارک کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کے حوالے سے ایک جامع پالیسی مرتب کی جائے تاکہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی ہو سکے اور اس کے غیر ضروری استعمال کو روکا جا سکے۔ شہریوں میں شعور و آگاہی پیدا کی جائے تاکہ وہ پانی کی قدر کریں اور ضائع کرنے کے بجائے اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں غیر قانونی بورنگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ واسا کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کسی علاقے میں پانی کی پائپ لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں تو انکی مرمت کو فی الفور یقینی بنایا جائے اور پانی کا ضیاع کرنے والوں کیخلاف قانون کے مطابق کاروائیاں کی جائیں آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر پانی کی بقا کے لیےاپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔






