پشاور(بلدیات ٹائمز)خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اداروں کو مالی طور پر کمزور کرنے کے اسباب کا صد باب کرنا از حد ضروری ہو گیا ہے۔ کرونا وباء کے دوران ختم کئے گئے ٹیکسز کی فوری بحالی عمل میں لائی جائے اور غیر دانشمندانہ فیصلوں سے قائم نئی اور چھوٹی TMAs کو ختم کیا جائے۔بلدیاتی اداروں کو مالی لحاظ سے مضبوط بنانے کے لئے فوری اصلاحات کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔بلدیاتی ملازمین کے مسائل کو حل کرنے اور تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لئے بلاتاخیر اکاونٹ فور کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ غیر ضروری واسا کمپنیوں کو فی الفور ختم کر کے بلدیاتی ملازمین کی خدمات ان کی متعلقہ TMAs کے حوالہ کی جائے.دستکاری سکولز کی بندش کے احکام سے دستکاری سکولز کی اساتذہ کو بے روزگاری سے دوچار کر کے علاقہ کی بچیوں کو فری دستکاری کی مصنوعات کی سکھلائی ، سلائی کڑھائی کی سہولت سے محروم کر دیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا کی TMAs کو گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں کمزور کرنا شروع کیا گیا اور وقتاً فوقتاً کمزور سے کمزور تر کر دیا گیا۔ جس کی بناء پر بلدیاتی ادارے کمزور مالی پوزیشن کی وجہ سے کئی کئی ماہ تک بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کرنے سے محروم چلے آ رہے ہیں اور ان کے بچے بھوک و افلاس سے دوچار ہو کر فاکوں سے ھم کنار ہوتے ہیں جب کہ پرانا فرسودہ اکاؤنٹنگ سسٹم پرسنل لیجر اکاونٹ بھی اس کی اہم وجہ ہے۔جس کی توسیعی میعاد گزشتہ تین چار سالوں سے ہر دو تین ماہ بعد ختم ہو جاتی ہے۔ بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز اپنے حقوق کےلئے شب و روز آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ سال 2015 میں بلدیاتی نظام سے رورل ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو ختم کر کے TMAs میں ملازمین کو بھیج کر اضافی بوجھ ڈالا گیا۔اسی طرح صوبہ بھر کے ضلع کونسلز کو ختم کر کے ضلع کو نسلز کے عملہ اور پنشنرز کی ذمہ داریاں بھی TMAs کے حوالہ کرکے ان کی تنخواہوں اور پنشن/ گریجوٹی کے جملہ اخراجات کی ادائیگی کا بھی TMAs کو پابند بنایا گیا ہے مگر تاحال صوبائی حکومت نے ضلع کونسلز کے ملازمین کی پنشن کنٹری بیوشن جو صوبائی خزانہ میں جمع شدہ ہے کی ادائیگی TMAs کو نہیں کی گئی۔اس طرح روزانہ کی بنیاد پر مختلف نوعیت کے بینرز کی تیاری بھی TMAs کے کھاتے میں ڈال رکھی ہے اور اس طرح کئی قسم کے فالتو اخراجات بھی TMAs سے برداشت کرایے جاتے ہیں۔جب کہ صوبہ کی کئی TMAs تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے ساتھ ساتھ گذشتہ کئی سالوں سے ریٹائرمنٹ پر جانے والے ملازمین اور ہنشنرز کو انکی زندگی بھر کی جمع پونجی پنشن گریجویٹی بھی ادا کرنے سے قاصر ہیں جسکی وجہ سے ریٹائرڈ ملازمین مفلوک الحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سال 2015 مین ھی ریسکیو 1122 قائم کر کے فائر بریگیڈ سٹاف کو ایڈجسٹ کرنے کی بجائے اپنے چہیتوں کو نئے محکمہ میں کھپایا گیا جبکہ TMAs کا فائر بریگیڈ سٹاف سے استفادہ حاصل کرنے کی بجائے تاحال سرپلس رکھا گیاہے اور فائر بریگیڈ سٹاف سے سولہ سولہ گھنٹے ڈیوٹی لی جا رہی ہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔سال 2014 میں پشاور اور 2016, 2017 میں صوبہ کے دیگر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کی TMAs سے عملہ صفائی اور واٹر سپلائی کو علیحدہ کر کے واٹر اینڈ سینیٹیشن کمپنیز کا قیام عمل میں لایا گیا جس سے TMAs پر اضافی مالی بوجھ ڈالا گیا کیوں کہ علیحدہ کمپنیز بننے کے باوجود واسا کے عملہ کی تنخواہیں اور پنشن سمیت دیگر تمام اخراجات کی ادائیگی کی ذمہ دار متعلقہ TMAs کو ہی ٹھہرایا گیا ھے جبکہ اس کے علاوہ سالانہ اربوں روپے کی ادائیگی ان کمپنیز کو براہ راست صوبائی خزانہ سے بھی کی جا رہی ہے بلکہ رواں مالی سال کے دوران تو صوبائی وزیر بلدیات کے آبائی ضلع ہری پور میں بھی واسا کمپنی کے قیام کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔یہی نہیں بلکہ سال 2020 میں TMAs کے بڑے ذرائع آمدن منتقلی جائیداد ٹیکس (پراپرٹی ٹیکس) کو ختم کرکے حکومتی خزانہ میں جمع کرنا شروع کر دیا جو عرصہ دو سال تک منقطع رھا اور TMAs بڑے ذرائع آمدن سے محروم رھیں اور سال 2021 میں فیڈریشن کی ڈیمانڈ پر اس ٹیکس کو بحال کرنے کا اعلان کیا گیا مگر بدقسمتی سے دو فیصد کی بجائے ایک فیصد کر دیا گیا جب کہ اس مد میں تاحال تین ارب اکیاسی کروڑ روپے TMAs کے صوبائی حکومت کے ذمہ واجب الادا ہیں اور اسی طرح کرونا وباء کے دوران بلدیاتی اداروں کے 120 کے قریب ٹیکسز کو ختم کیا گیا جو تاحال بحال نہیں کئے جا سکے۔یہی نہیں بلکہ اب اڈہ جات کی آمدن بھی PDA اور RTAs کے حوالہ کر نے کے درپے ھیں۔ صوبہ میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کا قیام عمل میں لا کر بلدیاتی اداروں کی نقشہ جات کی منظوری کی آمدن بھی براہ راست صوبائی محکمہ لوکل باڈیز بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حوالہ کر دی گئ اور اس تمام صورت حال کے تناظر کی وجہ سے صوبہ بھر کی TMAs مالی طور پر بری طرح دیوالیہ ہو گئ ہیں۔یہاں یہ بات بھی واضع کرنی ضروری ہے کہ مالی طور پر مضبوط اکثر TMAs کو سیاسی طور پر تقسیم کر کے سی او یونٹ بنانے کی بجائے نئی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹر کا وجود عمل میں لا کر پرانی TMAs کو مشکلات میں ڈال دیا گیا۔جسکی وجہ سے مضبوط مالی پوزیشن والی TMAs کو کمزور سے کمزور تر کر دیا گیا اور TMAs اپنے ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کرنے میں سخت مالی بحران کی شکار ہیں۔یاد رہے کہ صوبہ کے ذمہ داران نے بلدیاتی اداروں اور TMAs کے مالی وسائل بڑھانے کی طرف کوئ توجہ نہ نہیں دی۔ بلدیاتی اداروں کی نمائندہ تنظیم لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبر پختونخوا کے قائدین شوکت علی کیانی ایبٹ آباد ۔حاجی انور کمال خان مروت لکی مروت، محبوب اللہ درگئی ، شوکت علی انجم صوابی ۔سلیمان خان ہوتی مردان ۔حاجی نیاز علی خان صوابی۔ قیصر کامران ڈیرہ اسماعیل خان۔ مراد علی خان پبی ۔ بلال خان ڈیرہ اسماعیل خان۔ آصف الرحمان مانسہرہ ۔ راشد خان اوگی ۔شاد خان چارسدہ ۔ اقبال حسین مینگورہ سوات۔ بشیر احمد بٹگرام ۔ عبد الودود بالاکوٹ۔ بشیر باچہ لاچی کوہاٹ۔ آصف قدوس ہنگو۔ سخی بادشاہ کوہاٹ۔ کامران ظہیر ٹل اور دیگرز نے رابطہ کرنے پر بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی کئ ماہ سے عدم ادائیگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی ادارے مالی بحران کا شکار ہے یں جبکہ صوبائی حکومت اور لوکل کونسل بورڈ کو پرواہ ہی نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی اداروں کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے فوری اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی توجہ بلدیاتی اداروں کی طرف مبذول کراتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ کمزور مالی پوزیشن والی TMAs کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی یقینی بنانے کے فوری طور پر اکاؤنٹ فور کا قیام عمل میں لایا جائے اور آئندہ کمزور مالی *وسائل والی TMAs قائم کرنے اور TMAs کو مزید کمزور کرنے سے گریز کیا جائے اور فی الفور TMAs کے وسائل کو بڑھانے پر توجہ دی جائے اور سیاسی طور پر قائم کی گئی غیر ضروری TMAs کے قیام کا غیر دانشمندانہ فیصلوں کو واپس کیا جائے۔
Read Next
11 گھنٹے ago
خیبرپختونخوا کےبلدیاتی نمائندوں کیطرف سے حاجی غلام احمد بلور کے اعزاز میں پروقار تقریب منقعد کی جائیگی
16 گھنٹے ago
لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کی جدوجہد رنگ لے آئی،اکاونٹ فور کی سمری منظوری کیلئے وزیر اعلیٰ کو ارسال
1 دن ago
یقین دہانی کے باوجود بھی لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی وزیر اعلیٰ کیساتھ ملاقات نہ ہوسکی،بھرپور احتجاج کیلئے مشاورت تیز
1 دن ago
خیبرپختونخوا،بلدیاتی اداروں کے ملازمین کی پنشن،گریجویٹی،لیو انکیشمنٹ وغیرہ کے کیسز کو حتمی شکل دینے کے لئے باقاعدہ اجلاس طلب
2 دن ago






