جماعتِ اسلامی پشاور کے زیرِ اہتمام موجودہ بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

جماعتِ اسلامی پشاور کے زیرِ اہتمام موجودہ بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا،جس میں امیر جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع، امیر جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا شمالی و سابقہ وزیر بلدیات عنایت اللہ خان، جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا وسطی صابر حسین اعوان،

امیر جماعتِ اسلامی پشاور بحراللہ خان اور سیاسی کونسل پشاور کے چیئرمین کاشف اعظم سمیت کوارڈنیٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا انتظار علی خلیل، چئیرمین حیات آباد عثمان خان، چئیرمین ایوب قریشی، چئیرمین نور غلام، چئیرمین عبداوحید، چئیرمین سیف الرحمن سمیت متعدد بلدیاتی نمایندوں، سیاسی کارکنوں و عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔رہنما جماعت اسلامی عبدالواسع کا اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے مقامی حکومتوں کے نمایندے گزشتہ چار سالوں سے اختیارات و ترقیاتی فنڈز سے محروم ہے اور صوبائی حکومت ابھی بھی مقامی حکومتوں کے مسائل کے حل میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے رہنما جماعت اسلامی و سابقہ وزیر بلدیات عنایت اللہ خان کا کہنا تھا کہ مضبوط مستحکم بلدیاتی نظام کے لیے جماعت اسلامی نے تحریک کا آغاز کیا ہے ہم مقامی حکومتوں کے نمایندوں کے ساتھ ہے گزشتہ چار سالوں سے منتخب بلدیاتی نمایندوں کو قانونی آئینی اختیارات و ترقیاتی فنڈز سے محروم رکھا گیا ہے۔ عنایت اللہ خان کا کہنا تھا کہ جب میں صوبائی حکومت کا حصہ اور وزیر بلدیات تھا تو اس وقت خیبرپختونخوا کے مقامی حکومتوں کو 80ارب کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے تھے مگر اج تو صورتحال برعکس ہے ہم پورے پاکستان میں یکساں نظام مقامی حکومتوں کا چاہتے ہے۔شرکاء نے خیبرپختونخوا کے مقامی حکومتوں کے نمایندے کیساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم کے فیصلے کے مطابق مضبوط مستحکم بلدیاتی نظام کے لیے تحریک میں عوام سے شامل ہونے کی اپیل کی۔احتجاجی ریلی کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کوارڈنیٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا انتظار خلیل کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کے مضبوطی کے لیے جماعت اسلامی کے زیر قیادت اج کی احتجاجی ریلی قابل تحسین ہے اور مطالبہ کرتے ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کے فعال نظام اور پی ٹی آئی صوبائی حکومت کی مقامی حکومتوں کیساتھ ناروا ظلم کیخلاف میدان میں نکل کر ساتھ دیں ۔کوارڈنیٹر ایسوسی ایشن انتظار علی خلیل کا مزید کہنا تھا کہ 23 دسمبر پارلیمنٹ ہاوس اسلام اباد میں پرامن احتجاج اور 5 جنوری کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے بھرپور احتجاجی دھرنا شروع کیا جائیگا۔ 5 جنوری احتجاجی دھرنا میں سیاسی جماعتوں کو دعوت شرکت کے لیے لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کیطرف سے قائم کمیٹی جلد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کریگی۔

جواب دیں

Back to top button