میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے کراچی کاٹن ایکسچینج (کے سی اے) کی جائیداد سیل کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو عجلت، یکطرفہ اور حقائق و قانونی ریکارڈ کی مناسب جانچ کے بغیر کیا گیا عمل قرار دیا ہے،ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ کے نام اپنے ایک باضابطہ خط میں میئر کراچی نے کہا کہ حال ہی میں انہوں نے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) کے نمائندوں اور کے ایم سی کے محکمہ لینڈ کے افسران کے ساتھ ایک اجلاس کیا، اجلاس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 13 دسمبر 2025 کو ایویکی ٹرسٹ بورڈ (ای ٹی بی) کے ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے دائر کی گئی شکایت پر ایک ایف آئی آر درج کی گئی جس میں یہ الزام عائد کیا گیا کہ سرائے کوارٹرز، آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع پلاٹ نمبر 6، ایس آر-4 پر مشتمل جائیداد کراچی کاٹن ایکسچینج کے قانونی قبضے میں نہیں ہے،میئر کراچی نے واضح کیا کہ کے ایم سی کے محکمہ لینڈ نے دوٹوک انداز میں تصدیق کی ہے کہ مذکورہ جائیداد بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ملکیتی میونسپل زمین ہے، جو 31 جولائی 1936 کو قانونی طور پر کے ایم سی کو منتقل کی گئی تھی، بعد ازاں یہ جائیداد کراچی کاٹن ایکسچینج کو لیز پر دی گئی، سرکاری بلدیاتی اور ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ جائیداد میونسپل نوعیت کی ہے اور کراچی کاٹن ایکسچینج کے نام درج ہے،ایویکی ٹرسٹ بورڈ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ ای ٹی بی کا مؤقف کسی بھی طرح کے حقائق یا قانونی بنیاد سے محروم ہے، انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ کے ایم سی اور کے سی اے کے درمیان بعض واجبات کی ادائیگی سے متعلق ایک تنازع موجود ہے تاہم یہ معاملہ 2006 سے زیر التواء ہے اور معزز ہائیکورٹ میں مقدمہ نمبر 293/2006 کے تحت زیر سماعت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر یہ جائیداد کبھی ایویکی ٹرسٹ بورڈ کی ملکیت ہوتی تو بورڈ بہت پہلے اپنا دعویٰ پیش کرتا، جو کہ اس نے نہیں کیا جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ جائیداد کبھی بھی ای ٹی بی کی ملکیت نہیں رہی،شہر کے نگہبان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ ان پر آئینی اور قانونی طور پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف کے ایم سی کی جائیدادوں کا تحفظ کریں بلکہ ان اداروں کا بھی دفاع کریں جو پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن ملک کی کاٹن معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے بینکوں، انشورنس کمپنیوں، ٹیکسٹائل ملوں، ایکسپورٹرز، جنرز اور کاشتکاروں سمیت پورا تجارتی نظام وابستہ ہے، جو کے سی اے کے منظور شدہ نرخوں کے تعین کے نظام پر انحصار کرتا ہے، میئر کراچی نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ جائیداد کو غیر قانونی طور پر سیل کرنے سے نہ صرف بلدیہ عظمیٰ کراچی کو بھاری مالی نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ہزاروں افراد کی قانونی تجارتی اور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں، انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کو متعلقہ اداروں سے ملکیت کی مکمل تصدیق اور تمام دستیاب ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیے بغیر اس نوعیت کا اقدام نہیں کرنا چاہیے تھا۔
Read Next
21 گھنٹے ago
کراچی کی140 سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام آئندہ دو سے تین روز میں شروع کردیا جائے گا،مرتضیٰ وہاب کی پریس کانفرنس
3 دن ago
پاکستان کو 2027 تک پولیو فری بنانے کے لئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب
4 دن ago
شہریوں کے لئے بہترین تفریحی اور کھانے پینے کی سہولت فراہم کرنے پر چنیسر ٹاؤن کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب
5 دن ago
سائٹ کیماڑی اربن فاریسٹ کا افتتاح،کراچی میں 25 ہزار درخت لگانے کا ہدف مقرر،میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب
5 دن ago
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات جمہوری روایات کے تسلسل کا اہم حصہ ہیں،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب
Related Articles
*میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ضلع ملیر گڈاپ ٹاؤن میں صالح محمد واٹر پمپنگ اسٹیشن کا افتتاح کردیا۔*
7 دن ago
لیاری کی اہم شاہراہ مرزا آدم خان روڈ کی بحالی تیزی سے جاری ہے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب
1 ہفتہ ago



