میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی ایک میگا سٹی ہے، جو نہ صرف گنجان آباد ہے بلکہ پاکستان کا معاشی مرکز بھی ہے، اس لیے یہاں ایک مضبوط اور جدید فائر فائٹنگ نظام کی اشد ضرورت ہے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، بلند و بالا عمارتوں اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کے پیش نظر ہنگامی خدمات کی استعداد میں اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے،انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے انفراسٹرکچر اور سہولیات میں خاطر خواہ سرمایہ کاری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے شہر کے مختلف اضلاع بشمول ضلع غربی، کیماڑی، ملیر اور ضلع شرقی میں نئے فائر اسٹیشنز قائم کئے جارہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کے ایم سی بلڈنگ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر، مشیر مالیات گلزار ابڑو، سینیئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن برائے میئر اخلاق احمد، چیف فائر آفیسر ہمایوں خان، ڈائریکٹر میڈیا دانیال سیال سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں شہر میں بڑھتے ہوئے آتشزدگی کے واقعات کے پیش نظر رسپانس ٹائم کو بہتر بنانے اور مکمل تیاری کو یقینی بنانے پر غور کیا گیا، میئر کراچی نے کہا کہ کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام محکمے ہنگامی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے نتائج فراہم کریں، میونسپل کمشنر ابرار جعفر نے میئر کراچی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ

گلستان جوہر، کورنگی، بولٹن مارکیٹ اور نارتھ کراچی میں قائم فائر اسٹیشنز پراپ گریڈیشن کا عمل جاری ہے، میونسپل کمشنر نے کہا کہ ضروری فائر فائٹنگ اور اربن ریسکیو آلات کی خریداری کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور 292 ملین روپے مالیت کے ورک آرڈرز جاری کر دیے گئے ہیں، جن میں سابقہ خریداریوں کے بقایا جات بھی شامل ہیں، ان آلات میں ہائیڈرولک ریسکیو ٹولز، انڈسٹریل فینز، جنریٹرز، واٹر باؤزرز، اسنورکلز کی بحالی، حفاظتی دستانے، سیفٹی ماسک، موبائل لائٹنگ ٹاورز اور دیگر جدید فائر فائٹنگ آلات شامل ہیں، میئر کراچی نے ہدایت دی کہ تمام اپ گریڈیشن اور بحالی کے کام 30 مئی سے قبل مکمل کیے جائیں، اور بڑھتے ہوئے آتشزدگی کے واقعات کے پیش نظر اس میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ 17 ناکارہ فائر وہیکلز کی فوری مرمت اور انہیں فعال حالت میں لایا جائے اور متعلقہ محکموں کو تاکید کی کہ تمام گاڑیوں کو جلد از جلد سڑکوں پر لا کر ہنگامی رسپانس صلاحیت کو بہتر بنایا جائے۔






