کے ایم سی کا ترقیاتی کاموں میں معیار، شفافیت اور پائیداری یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی کنسلٹنٹ مقرر کرنے کا فیصلہ

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر بھر میں جاری اور آئندہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ایک معتبر تھرڈ پارٹی کنسلٹنٹ مقرر کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ باقاعدہ طور پر سٹی کونسل سے منظور کیا گیا، جو کے ایم سی کی جانب سے گورننس کے معیار کو بہتر بنانے اور کراچی کے شہریوں کو اعلیٰ معیار کی انفراسٹرکچر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا عکاس ہے۔ اس وقت شہر میں 60 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، اور اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عوامی وسائل حقیقی اور نمایاں بہتری میں تبدیل ہوں، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ تھرڈ پارٹی کنسلٹنٹ کی تقرری عوامی سطح پر ترقیاتی کاموں کے معیار اور رفتار سے متعلق شکایات کے پیش نظر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادانہ نگرانی اور کے ایم سی افسران کے ساتھ مشترکہ معائنے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام منصوبے مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہوں، انہوں نے کہاکہ یہ اقدام صرف معیار برقرار رکھنے کے لیے نہیں بلکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے بھی ہے۔ ہم غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ تمام ترقیاتی اسکیمیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائیں، ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز طارق مغل نے میئر کراچی کو مختلف جاری منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر میئر کراچی نے عید کے بعد ترقیاتی کاموں کی سست رفتار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مقررہ مدت میں کام مکمل نہ کرنے والے افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا، انہوں نے کہاکہ میں کام کے ساتھ اس کے اثرات بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ اگر معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیا گیا تو اس کے نتائج ہوں گے، جن میں افسران کی تعیناتیوں اور ذمہ داریوں پر بھی اثر پڑے گا۔ ہم اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں اور اس کے نتائج ہر صورت نظر آنے چاہئیں، میئر کراچی کو مختلف اہم ترقیاتی منصوبوں، جن میں توری بنگش روڈ، عظیم پورہ پل، گلشن حدید روڈ، اے ایم توفیق روڈ، صہبا اختر روڈ، ڈیڈیکس روڈ اور دیگر اہم اسکیمیں کے حوالے سے تفصیلات بتائی گئیں، اجلاس میں میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر، مشیر مالیات گلزار ابڑو، سینیئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن اخلاق احمد، ڈائریکٹر میڈیا دانیال سیال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

جواب دیں

Back to top button