ورلڈ بینک کی پنجاب انکلوسِو سٹیز پروگرام کے لئے 375 ملین ڈالر کی معاونت،وفد کی سیکرٹری ہاؤسنگ سے ملاقات

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن اور ہدایات کے مطابق صوبہ بھر میں تمام شہروں کو مساوی بنیادوں پر جدید شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ورلڈ بینک کی جانب سے پنجاب انکلوسِو سٹیز پروگرام کے لیے 375 ملین ڈالر کی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ورلڈ بینک کے وفد نے کارلو البرٹو کی قیادت میں سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب نورالامین مینگل سے ملاقات کی اور پروگرام کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پنجاب انکلوسِو سٹیز پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں 16 شہروں کو شامل کیا جائے گا، جبکہ واسا کے زیرِ انتظام 6 شہروں میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں چکوال، قصور، چنیوٹ، منڈی بہاؤالدین، پاکپتن اور راجن پور کو پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے کہا کہ پنجاب انکلوسِو سٹیز پروگرام کے تحت واٹر سپلائی اور سیوریج کے نظام میں نمایاں بہتری لائی جائے گی۔ منصوبے کے تحت ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، واٹر سپلائی، سٹارم واٹر مینجمنٹ اور انڈر گراؤنڈ واٹر سٹوریج ٹینکس سمیت بنیادی شہری سہولیات سے متعلق منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کے واضح اہداف اور تکمیل کی ڈیڈ لائنز مقرر کی جائیں اور ہر ہدف کو قابلِ پیمائش بناتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں پر ٹائم لائن کے مطابق پیش رفت یقینی بنائی جائے تاکہ شہریوں کو بروقت بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔سیکرٹری ہاؤسنگ نے مزید ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کی کڑی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو منصوبوں کی پیش رفت، اہداف اور مقررہ ڈیڈ لائنز پر عملدرآمد کا باقاعدگی سے جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کی طرز پر دیگر اضلاع میں بھی ترقیاتی کام متعارف کروائے جا رہے ہیں تاکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں شہری سہولیات کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔نورالامین مینگل نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبہ بھر میں مساوی بنیادوں پر ترقیاتی کام متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ پنجاب انکلوسِو سٹیز پروگرام کے ذریعے شہریوں کو بہتر واٹر سپلائی، مؤثر سیوریج، سٹارم واٹر مینجمنٹ اور جدید شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے مربوط اور پائیدار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button