کراچی میں تمام ترقیاتی منصوبوں کی مشترکہ منصوبہ بندی اور عملدرآمد، کے ایم سی اور واٹر کارپوریشن کا اہم فیصلہ

کراچی(بلدیات ٹائمز)پائیدار شہری ترقی کو یقینی بنانے، کام کو دوہرانے سے بچنے اور شہر بھر میں انفراسٹرکچر کی بہتر منصوبہ بندی کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے تمام جاری اور آئندہ ترقیاتی منصوبوں کو مشترکہ طور پر منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے تحت لانے پر اتفاق کیا ہے، یہ ہدایت میئر کراچی و چیئرمین واٹر کارپوریشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ہیڈ آفس میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی، اجلاس میں غیر مربوط ترقیاتی کاموں سے پیدا ہونے والے دیرینہ مسائل، خصوصاً نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو واٹر لائنز کی تنصیب اور مرمتی کاموں کے باعث پہنچنے والے نقصانات پر تفصیلی غور کیا گیا،میئر کراچی نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کے باعث شہریوں کی جانب سے انفراسٹرکچر کی خرابی سے متعلق متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے واضح اور جامع رہنما اصول مرتب کرنا ناگزیر ہے تاکہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں کارکردگی، معیار اور طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ہدایت کی کہ اب سے کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ کے ایم سی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے درمیان پیشگی مشترکہ منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کے بغیر شروع نہیں کیا جائے گا، یہ طریقہ کار نہ صرف عوامی وسائل کے ضیاع کو روکے گا بلکہ کراچی کے انفراسٹرکچر کو مضبوط اور منظم بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا،انہوں نے ہدایت کی کہ تمام جاری منصوبے، جن میں پہلوان گوٹھ روڈ، طوری بنگش روڈ، سپارکو روڈ، صہبا اختر روڈ، مہرالنسا روڈ، مشن روڈ اور دیگر اہم ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں، دونوں اداروں کے باہمی تعاون سے مکمل کیے جائیں تاکہ معیار برقرار رکھا جا سکے اور شہریوں کو دیرپا فوائد حاصل ہوں،شفافیت اور احتساب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے میئر کراچی نے بتایا کہ کے ایم سی پہلے ہی ایک تھرڈ پارٹی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کر چکی ہے جو بڑے منصوبوں میں کام کے معیار کی آزادانہ نگرانی کرے گا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معمولی یا غیرمنصوبہ بند یوٹیلیٹی کاموں کی وجہ سے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو متاثر نہیں ہونا چاہیے،انہوں نے واضح کیا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی ایک منظم ترتیب کے تحت ہونی چاہیے، جس کے مطابق سڑکوں کی تعمیر سے قبل پانی اور سیوریج لائنوں کی جانچ، ترتیب اور تنصیب مکمل کی جائے جبکہ سڑکوں کی تعمیر کا عمل اس وقت شروع کیا جائے جب زیرِ زمین تمام سہولیات کو مکمل طور پر منصوبہ بند اور محفوظ بنا لیا جائے،میئر کراچی نے سختی سے متنبہ کیا کہ جو بھی افسران ان ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے یا مقرر کردہ رہنما اصولوں پر عملدرآمد میں ناکام رہیں گے، ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،اجلاس میں میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر احمد علی صدیقی، چیف آپریٹنگ آفیسر اسد اللہ خان، مشیر مالیات کے ایم سی گلزار ابڑو سمیت دونوں اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، یہ مشترکہ اقدام مربوط شہری منصوبہ بندی کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے اور شہر کی انتظامیہ کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو معیاری اور پائیدار انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے۔

جواب دیں

Back to top button