سموگ، صورتحال سات شہروں انتہائی خراب ،حکومت پنجاب نے 17 نومبر تک پارکس، تفریح گاہیں اور عجائب گھر وغیرہ کی بندش کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

لاہور اور دیگر پاکستانی شہروں میں ماحولیاتی آلودگی کی صورتحال غیرمعمولی ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فضائی آلودگی کے لحاظ سے پاکستان کے سات بڑے شہر سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان میں ملتان 2135 ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ لاہور کا سکور 676 ہے، جو اسے دوسرے نمبر پر رکھتا ہے، جبکہ پشاور 290 سکور کے ساتھ تیسرے، اور اسلام آباد 245 سکور کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔موسمیاتی ماہرین کے مطابق، آئندہ ہفتے سموگ کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ پنجاب حکومت نے حفاظتی اقدامات کے طور پر 8 نومبر سے 17 نومبر تک پارکس، تفریح گاہیں اور عجائب گھر بند کر دیئے ہیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں ماحولیاتی قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں گرفتاری اور جرمانے شامل ہیں۔

حکومت نے اینٹی سموگ مہم کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت باربرداری کی گاڑیوں کو ترپال سے ڈھانپنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اس مہم پر عمل درآمد کرنے والے افسران اور اداروں کو شاباش دی ہے۔

عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، خاص طور پر بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے گھر میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مریم اورنگزیب نے زور دیا کہ سکول نہ جانے کا مطلب پکنک منانا نہیں ہے، بلکہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی جانیں بچانا ہے۔لاہور میں آلودگی پھیلانے والے نجی جنریٹرز اور گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ 47 گاڑیاں بند کی گئی ہیں جبکہ 31 گاڑیوں کے چالان اور 5 لاکھ 50 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ مزید برآں فوڈ سٹالز اور آؤٹ لیٹس کا بھی معائنہ کیا گیا اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بند کر دیا گیا ہے۔شہریوں کو ماسک پہننے کی تاکید کی گئی ہے اور سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ بھی جاری ہے تاکہ آلودگی کو کم کیا جا سکے۔موسمیاتی آلودگی کی اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صحت کے خطرات سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button